حقوقِ نسواں
ذرا دو ٹوک بات کرتا ہوں! اگر صرف ایک مرد کی نظر سے دیکھا جائے تو ہم مردوں کو خواتین کی اس "سو کالڈ" آزادی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تو ہمارے حق میں ہے۔ ہم دن میں بارہ اور سولہ گھنٹے کام کرتے ہیں کہ گھر کا خرچ اٹھا سکیں، ہمارا بوجھ آدھا ہو جائے گا۔ خواتین کے لباس اور میک اپ کا بوجھ تو ہم سے بالکل ہی ختم ہو جائے گا۔ خود خریدیں، خود پہنیں! ہمیں دیکھنے اور دل پشوری کرنے کو پہلے سے زیادہ رنگین تتلیاں ملیں گی۔ انہیں ہم کہیں گے تو "دوست" لیکن سیدھی بات ہے کہ ہم شکاری ہیں اور شکار کو "دوست" نہیں بنا سکتے، اسے کھا ہی سکتے ہیں۔ ہمیں پہلے سے زیادہ لڑکیوں کو پٹانے اور فلرٹ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس موقع کا ہم فائدہ اٹھائیں گے اور پھر آرام سے چھوڑ جائیں گے۔ تم جانو اور تمہاری اولاد! بھئی میری بیوی کا ہر چیک اپ چار ہزار سے کم نہیں ہوتا اور ڈیلیوری دو لاکھ کی۔ اس کے بعد دودھ، دوائیاں، پیمپر۔ رات کی نیند الگ خراب۔ میں تو اس بوجھ سے آزاد ہونا ہی پسند کروں گا نا؟ مارکیٹ میں لیبر کی سپلائی بڑھ جائے گی۔ ایک کام کے لیے دس ملازم ہوں گے اور ان میں سے پانچ لڑکیاں۔ ان پانچ میں سے ...