Posts

Showing posts from December, 2022

حب و عشق نبی ﷺ کی برکات

حب و عشق نبی ﷺ کی برکات زمانہء قدیم میں مسجد نبوی کو مور اور شُتر مُرغ کے پروں سے بنے ہوئے برش اور جھاڑو سے صاف کیا جاتا تھا۔ ایک طویل مدّت کے بعد دُھول اور فرش صاف کرنے کے لئے استعمال ہونے والے ان برشوں سے مور اور شتر مرغ کے پروں کو نکال کر عُثمانی سلاطین کے پاس بھجوایا جاتا تھا  جنہیں وہ اپنی آنکھوں اور چہروں سے مس کرتے اور انہیں اپنی پگڑیوں کے اُوپر لگاتے. عُثمانی سلطان آنسو بہا کر کہتے تھے کہ ہم رسول اللّٰه کے خادم ہیں اور انکے مبارک شہر کی خاک کے لائق نہیں ہیں! دُنیا کے بادشاہ ہیرے جواہرات سے جڑے ہوئے تاج پہننے میں اعزاز محسوس کرتے تھے جبکہ مسلمان حکمران ان پروں کو اپنی پگڑیوں اور تاج میں لگانا اعزاز سمجھتے تھے جن سے روضہء رسول اور مسجد نبوی کی صفائی ہوتی تھی،  یہی وہ محبت و  عشقِ رسول ﷺ تھا.... جس کی برکت سے سلاطین اور عُثمانی خلفاء نے کئی صدیوں تک تین براعظموں پر حکومت کی . . . *نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے

قدرت کے کاموں میں مداخلت

     *جب آسٹریلیا پر خرگوشوں کا قبضہ ہو گیا...* آسٹریلیا میں خرگوش نہیں پائے جاتے تھے یہ قدرت کا فیصلہ تھا لیکن پھر انسانوں نے فیصلہ کیا کہ وہاں خرگوش لائے جائیں 1859 میں وہاں صرف 24 خرگوش لا کے چھوڑے گئے. بظاہر بے ضرر اور معصوم دکھنے والے ان جانوروں کی پیدائش کو کنٹرول کرنے کے لیے آسٹریلیا میں ان کا کوئی دشمن جانور یا وائرس نہیں تھا اس لیے چند ہی سال میں انکی تعداد لاکھوں بلکہ کروڑوں تک پہنچ گئی اور انہوں نے وہاں کے کسانوں کی ناک میں دم کرکے رکھ دیا اور انکی ساری فصلوں کو تباہ کردیا. پھر آسٹریلیا کو ان خرگوشوں کے خلاف جنگ لڑنا پڑی. یہ لوگ سال میں 20 لاکھ خرگوش مارتے لیکن خرگوشوں کی آبادی جوں کی توں ہی رہتی. ان لوگوں نے خرگوش پروف باڑیں ایجاد کیں، زہر اور شکاری بندوقوں سے بھی کوشش کی لیکن ناکام رہے. مختلف طریقوں سے خرگوشوں کی آبادی ختم کرنے میں ناکامی کے بعد بالآخر ایک خطرناک وائرس چھوڑا گیا جس سے 95 فیصد خرگوش تو مر گئے لیکن باقی 5 فیصد پر وائرس بے اثر رہا اور دوبارہ آبادی بڑھنا شروع ہو گئی. آج بھی آسٹریلیا میں 20 کروڑ خرگوش موجود ہیں. آسٹریلیا میں اب خرگوش پالنا منع ہے ...

ہیجڑے یا مخنث داڑھی والوں کو کیوں ٹچ نہیں کرتے؟

 ہیجڑے یا مخنث داڑھی والوں کو کیوں ٹچ نہیں کرتے؟            ممبئی سے گورکھپور کے لئے میں ٹرین پر سوار ہوا، گاڑی  روانہ ہوئی، وِرار جنکشن پر کچھ مخنث یا ہیجڑے سوار ہوئے، اور یہیں سے وہ عام طور پر سوار ہوا کرتے ہیں، وہ سب کے پاس جاتے، تالی بجاتے اور پیسے مانگتے، مگر انہوں نے مجھے اور ڈبے میں موجود ایک اور داڑھی والے بوڑھے چچا کو ٹچ نہیں کیا، ایک سوٹیڈ بوٹیڈ کلین شیو نوجوان سے رہا نہیں گیا اور وہ پوچھ بیٹھا کہ آپ لوگ داڑھی والوں کو کیوں ٹچ نہیں کرتے؟ مخنث نے کہا کہ کیا واقعی تم اس سوال کا جواب جاننا چاہتے ہو؟   نوجوان نے کہا ہاں!  اس نے کہا تو پھر مجھے بیٹھنے کی جگہ دو!  ہم نے اس کے لئے جگہ بنائی اور وہ میرے پاس ہی بیٹھ گیا۔ پھر اس نے نوجوان کو مخاطب کرکے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا یہ مرد ہیں! پھر اس نے دور بیٹھی ہوئی ایک خاتون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا وہ کون ہے؟ نوجوان نے جواب دیا عورت!  پھر اس نے پوچھا کہ دونوں میں کیا فرق ہے؟ نوجوان بولا اِن کے چہرے پر داڑھی ہے اور اُس کے چہرے پر داڑھی نہی...

اسلام۔۔۔ تلوار یا اخلاق؟

 فرمایااسلام تلوار سے پھیلا یا اخلاق سے ؟ یہ سوال مستقل باعث اختلاف کیوں ہے ؟ یہ بحث کسی نتیجے تک کیوں نہیں پہونچتی ؟" عرض کیا اس بحث نے مسلمانوں کی جہالت کے دور میں جنم لیا ہے۔ یہ سوال نہ تو قرون اولی میں زیر بحث رہا اور نہ ہی قرون وسطی میں۔ یہ اس دور کا سوال ہے جس میں مسلمانوں نے علم کو پشت دکھا کر خرافات کو اپنی ترجیح بنا لیا۔ ورنہ یہ کوئی پیچیدہ سوال ہی نہیں ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی باشعور سماج میں یہ سوال اتنا عرصہ قدم جما سکے۔ بات بہت سادہ سی ہے۔ آپ ہتھیار کے ذریعے جغرافیہ تو فتح کر سکتے ہیں لیکن اس جغرافیے پر موجود قوم کو نہیں جیت سکتے۔ قوموں کو صرف اخلاق سے جیتا جاسکتا ہے۔ یورپ کے کلونیل راج کا خاتمہ کیوں ہوا ؟ کیونکہ جغرافیہ تو انہوں نے فتح کر لیا تھا لیکن محکوم قوموں کے قلوب نہ جیت سکے تھے۔ چنانچہ اس ضمن میں ان کی تاریخ میں دو تجربات ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کچھ جغرافیے ایسے تھے جو انہوں نے فتح کئے اور وہاں موجود اقوام کو محکوم بنا لیا۔ یعنی قوم کو زندہ رکھا۔ ایسے علاقوں سے سو، ڈیڑھ، اور ڈھائی  سو سال بعد بھی انہیں نکلنا پڑا۔ قوم کے دل نہ جیتے جاسکے تھے، چنانچہ ایک نہ ...

(*جان ڈی راک فیلر* )

 *جان ڈی راک فیلر کبھی دنیا کے امیر ترین آدمی تھے* ۔  *دنیا کا پہلا ارب پتی۔*    ٢٥سال  کی عمر میں، اس نے امریکہ کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک کو کنٹرول کیا۔  31 سال کی عمر میں، وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے والا بن گیا تھا۔  38 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ میں 90 فیصد تیل کو صاف کیا۔  50 تک، وہ ملک کا سب سے امیر آدمی تھا۔  ایک نوجوان کے طور پر، ہر فیصلہ، رویہ، اور رشتہ اس کی ذاتی طاقت اور دولت پیدا کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا.  لیکن 53 سال کی عمر میں وہ بیمار ہو گئے۔  اس کا پورا جسم درد سے لرز گیا اور اس کے سارے بال جھڑ گئے۔  مکمل اذیت میں، دنیا کا واحد ارب پتی اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی خرید سکتا تھا، لیکن وہ صرف سوپ اور کریکر ہضم کر سکتا تھا۔  ایک ساتھی نے لکھا، وہ سو نہیں سکتا تھا، مسکرا نہیں سکتا تھا اور زندگی میں کوئی بھی چیز اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔  اس کے ذاتی، انتہائی ماہر ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا۔  وہ سال اذیت سے آہستہ آہستہ گزر گیا۔  جب و...

دولت کا نشہ (لوک کہانی)

    ایک بادشاہ تھا،جس کا ایک نائی تھا،جو ویسے تو عام لوگوں کی طرح تھا مگر حجامت کے دوران  ایسے محو گفتگو ہو جاتا تھا کہ خاموش ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔بادشاہ کو بھی اس کی ادھر ادھر کی باتیں سن کر بڑا  مزا   آتا تھا   اور اس کی باتیں سن کر ہنستا جاتا تھا۔نائی کی ایک   عجیب   عادت   بھی  تھی جس پر بادشاہ کو  غصہ  بھی بہت آتا تھا مگر اس کو   عادت سے مجبور اور بے وقوف سمجھ کر خاموش ہو جاتا تھا۔  نائی کی عادت یہ تھی کہ بادشاہ کی حجامت کرتے کرتے کوئی نہ کوئی موقع نکال کر  بادشاہ کو کہتا کہ : "بادشاہ سلامت! میرا بیٹا بھی جوان ہو گیا ہے۔ لاکھوں میں ایک ہے۔آپ کی بھی بڑی لڑکی ، اللہ اس  کی عمر  دراز کرے جوان ہو  گئی ہے اگر   مجھ پر نوازش کر دو،شہزادی کا  رشتہ میرے بیٹے  سے کردو تو  میرے بیٹے کی بھی زندگی سنور جائے گی اور آپ کی بیٹی کی بھی شادی ہو جائے گی۔" نائی کی یہ بات سن کر ایک طرف بادشاہ کو غصہ آتا تو دوسری طرف ہنسی بھی آتی  اور کبھی کبھار ج...

توکل علی اللہ

```ان کے شہر ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﯿﻮﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ پر ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ۔ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﻞ ﺟﻤﻊ ﭘﻮﻧﺠﯽ ﺑﺲ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﺍﻭﻥ ﺧﺮﯾﺪ ﻻﺋﯽ، ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺭﮨﻢ ﻭﺻﻮﻝ ﭘﺎﺋﮯ۔ ﺩﻭ ﺩﺭﮨﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮐﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﺁﺋﯽ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﺑﺴﺮ ﮐﯿﺎ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﻟﯿﮑﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻟﻮﭨﯽ، ﺍﻭﻥ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮌﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﻮﮞ ﻟُﭧ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﻮﮨﺎﻥ ﺭﻭﺡ ﺗﮭﺎ، ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﮨﻮﻟﻨﺎﮐﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ ﻭ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﺳﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺳﯿﺪﮬﺎ جناب داؤد طائی ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺼﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺭﺏ ﺭﺣﻤﺪﻝ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻇﺎﻟﻢ؟ جناب داؤد طائی ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ابھی اسے تسلی دے رہے تھے کہ اتنے میں ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ، ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﺱ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮐﻮ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻢ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ...

خاتون ۔۔۔ لڑکی

 #خاتون____(لڑکی)____😘 جب کوئی خاتون آپ کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کرتی ہے  تو اس کا مطلب ہے کہ  اس نے آپ کی فیس بک فرینڈ ریکویسٹ قبول کی ہے، آپکا پروپوزل نہیں.  جب کوئی خاتون آپ کو فرینڈ ریکوئسٹ کرتی ہے تو  اس کا مطلب ہے کہ وہ آپ سے پروفیشنل نیٹ ورک بنانا چاہتی ہے  آپ کی گرل فرینڈ نہیں بننا چاہتی.  جب وہ آپ کے اسٹیٹس پر تبصرہ کرتی ہے تو  اس کا مطلب ہے کہ وہ صرف خوش اخلاق ہے، فلرٹنگ نہیں کر رہی،  جب وہ آپ کا کمنٹ پسند کرتی ہے، تو  اس کا مطلب ہے کہ وہ آپ کا کمنٹ پسند کرتی ہے آپ کو نہیں.  اخلاق کا مظاہرہ کریں.  اپنے نیٹ ورک کا احترام کریں  تاکہ پروفیشنل گروتھ کر سکیں.  یہاں رشتے تلاش کرنے سے بہتر ہے  آپ اپنے اردگرد کے رشتوں کا خیال کریں.   براہ کرم ! خواتین کا احترام کریں  اور ان کے ساتھ  اچھا سلوک کریں  جیسا کہ آپ چاہتے ہیں کہ  آپ کی ماں اور بہن کے ساتھ سلوک کیا جائے۔  تاکہ جب آپ کی خواتین باہر نکلیں تو انہیں بھی ایسی ہی عزت اور احترام ملے.   کسی کی تذلیل نہ کریں،  چاہ...

اسلام اور سلام

 *اسلام اور سلام*  از: مولانا عبداللطیف قاسمی‏، استاذ جامعہ غیث الہدیٰ بنگلور  دنیا کی تمام متمدن ومہذب قوموں میں ملاقات کے وقت پیار ومحبت، جذبہٴ اکرام وخیراندیشی کا اظہار کرنے اورمخاطب کو مانوس ومسرور کرنے کے لیے کوئی خاص کلمہ کہنے کا رواج ہے، ہمارے ملک میں ہمارے برادران وطن ملاقات کے وقت ”نمستے“ کہتے ہیں، اس نام نہاد ترقی یافتہ زمانہ میں Good Night/ Good Morning اور بعض روشن خیال حضرات ”صبح بخیر“ ”شب بخیر“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، حضرت عمران بن حصین کا بیان ہے کہ قبل از اسلام عرب کی عادت تھی، کہ جب وہ آپس میں ملاقات کرتے تو ایک دوسرے کو ”حَیَّاکَ اللہُ“ (اللہ تم کو زندہ رکھے) ”أنْعَمَ اللہُ بِکَ عَیْنًا“ (اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھ کو ٹھنڈا کرے) ”أَنْعِمْ صَبَاحًا“ (تمہاری صبح خوش گوار ہو) وغیرہ الفاظ استعمال کیا کرتے تھے، جب ہم لوگ جاہلیت کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آگئے تو ہمیں اس کی ممانعت کردی گئی، یعنی اس کے بجائے ”السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ“ کی تعلیم دی گئی، جس کے معنی ہیں ”تم ہر تکلیف اور رنج ومصیبت سے سلامت رہو“ ابن العربی رح نے احکام القرآن میں...

اچھے اور جلدی قبول ہونے والے استغفار

 *اچھے اورجلدی قبول ہونے والے استغفار*  سوال:(۱) اچھے اورجلدی قبول ہونے والے استغفار کون کون سے ہیں ؟ (۲) میں نے” بکھرے موتی “میں پڑھا ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر اس امت میں گناہ کرنے والا نہ ہوتا تو میں ایسی امت پیدا فرماتا جو گناہ کرے پھر میں انہیں بخش دوں․․․․․ یہ میرے سمجھ میں نہیں آیا ․․․․․․وضاحت فرمائیں۔ جواب نمبر: 58030 بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 429-416/H=6/1436-U  (۱) تمام منقول استغفار اچھے ہیں، اور ہرایک کی اپنی تاثیر ہے، ذیل میں چند استغفار ذکر کیے جاتے ہیں۔  (الف) شداد بن اوس رضی اللہ اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سید الاستغفار یہ ہے:  اللَّہُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُکَ، وَأَنَا عَلَی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ، وَأَبُوءُ لَکَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِی، فَإِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ․ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ثواب...

پہلی ڈیجیٹل نسل

 پہلی ڈیجیٹل نسل! ٭٭٭ اسی کی دہائی میں پیدا ہونے والے ہم جیسے ادھیڑ عمر حضرات اور ہماری ہم عمر بہنیں (لڑکیاں) شاید وہ آخری نسل ہیں، جن کے بچپن سے موت تک کے ہر اہم وغیر اہم پل عکس بند نہیں ہوسکے ہیں۔ ہمارے بچپن میں تو شاید سال میں ایک آدھ بار ہی عید وغیرہ کے موقع  پر فوٹو اسٹوڈیو جا کر بہن بھائیوں کی گروپ فوٹو ہو جاتی تھی۔ ہم سب قد کے حساب سے قطار میں کھڑے کر دیے جاتے۔ اسٹوڈیو والا  ایک بوسیدہ  سے میلے پھولوں والے  گلدستے کا اسٹینڈ  ہمارے پاس رکھ دیتا اور  کہتا: اسمائل پلیز! اور ہم سب ہونق سے گھبرائے ہوئے چہرے کے ساتھ کیمرے کے بلیک ہول میں دیکھتے پلانٹڈ اسمائل کرتے… اور کلک ہوجاتا۔ سو دیکھا جائے تو ہم اسی کی دہائی والوں کی تیس پینتیس کی عمر تک، بس عید یا کچھ شادی وغیرہ کی تقاریب کی کچھ  فوٹوز ہی کسی دراز میں پڑی سڑتی ہوں گی! مگر پچھلے دس سے بیس برس میں پیدا ہونے والے بچے وہ پہلی نسل ہیں، جو اپنی زندگی کے تقریبا ہر دن کا عکس سال بسال ڈیجیٹل البمزکی صورت میں جمع کررہے ہیں، اور جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا جاتا ہے! سوچتے ہیں کہ یہ نسل...

ہدہد

 #ہُدہُد اللہ تعالی نے تمام پرندوں میں سے ہدہد کو یہ شرف کیوں بخشا کہ اس کا ذکر قرآن مجید میں کیا۔۔۔  #ہدہد  وہ واحد پرندہ ہے جو زندگی میں صرف ایک بار شادی کرتا ہے۔۔  اور اپنے جیون ساتھی کی وفات کے بعد بھی اکیلے ہی زندگی گزارتا ہے۔۔۔ یہ اپنی مادہ کو مہر میں کھانے کی کوئی چیز پیش کرتا ہے اگر وہ اسے کھالے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شادی کے لیے راضی ہے۔۔۔ پھر نر اس مادہ کو اپنے گھونسلے کی طرف لے کر جاتا ہے جو اکثر اوقات کسی درخت میں سوراخ کرکے بنایا ہوتا ہے اگر اسے گھر پسند آجائے تو دونوں رشتہ زواج میں منسلک ہوجاتے ہیں۔۔۔ مادہ عموما ہر موسم میں چھ سے آٹھ انڈے دیتی ہے اور بچے پیدا ہونے کے بعد باری باری بچوں کی خوراک کا بندوبست کرتے ہیں عجیب بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی کو بھی کھانے کی کوئی چیز مل جائے وہ اکیلے نہیں کھاتا بلکہ دونوں کے اکھٹا ہونے کے بعد ہی اسے کھاتے ہیں۔۔۔  #ہدہد کی چھٹی حس اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ زمین کے اوپر سے ہی پانی کو محسوس کر لیتا ہے اسی وجہ سے سلیمانؑ اس سے زیر زمین پانی ڈھونڈنے کا کام لیتے تھے۔۔۔  #ہدہد ہزاروں میل کا سفر بٖغیر رکے طے ...

جنت حور اور بی بی سی نیوز

   *جنت ، حور اور بی بی سی نیوز* *محمد انس بندیالوی* بی بی سی  ، ڈی ڈبلیو ، وی او اے نیوز اور ان جیسے دیگر نیوز چینلز  کافی عرصے سے  اسلامی نظریات کو ہدف بنائے بیٹھے ہیں اور زہر افشانی کا کوئی موقعہ جانے نہیں دیتے ، بلکہ اس دشمنی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر تے ہیں،درج ذیل تحریر، بی بی سی نیوز سے جاری کردہ ایک ویڈیو کا  جواب ہے ، جس میں  جنت اور حوروں کے متعلق اسلامی نظریات کو  تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اعتراضات کے جوابات سے پہلے کچھ تمہیدی باتیں ضروری ہیں ، جن سے شبہات کی حیثیت اور جوابات کی فوقیت عیاں ہوگی۔ 1۔منطقی مغالطوں کی ایک قسم Red Herring Fallacy کہلاتی ہے ،جس میںایک سنجیدہ اور قابل غور مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لئے درمیان میں کچھ ایسی بات کی جاتی ہے کہ بحث اصل موضوع سے ہٹ کر ایک غیر متعلقہ موضوع کی طرف چلی جائے، مثلاً: موضوعِ بحث "جہاد "کی اہمیت ہو تو کلام کو" غلامی" کے  مسئلے کی طرف لے جانا۔  بحث کے دورا ن بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن پر عوامی ذہن فوراً متوجہ ہوجاتا ہے، چنانچہ اصل مسئلہ کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے اس...

لا یمکن الثناء کما کان حقّہ

   لا یمکن الثناء کما کان حقّه            مدینہ منورہ میں اس حقیر نے ایک سیرت کی لائبریری میں حاضری دی، وہاں ایک الماری میں ڈاکٹر عبد الجبار رفاعی کی تصنیف کی زیارت ہوئی، جس کا نام معجم ما کتب عن الرسول واھل البیت تھا، جو جامع ازہر سے ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، شاید 18 جلدوں میں تھی، اس میں انہوں نے سیرت پاک کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کی فہرست اور انڈکس تیار کیا ہے؟ کتاب کا نام، زبان، مصنف کا نام، پتہ، کتنے صفحات پر مشتمل ہے، مطبوعہ ہے یا مخطوطہ اور کہاں سے دستیاب ہے، اور چند ایک سطروں کا تعارف اس میں درج کیا گیا ہے، نمبر شمار دیکھنے کے لیے اس حقیر نے آخری جلد کو اٹھایا تو آخری کتاب کا نمبر شمار 29774 تھا، اس میں انہیں کتابوں کا سیرت پاک کے موضوع پر ڈاکٹر عبد الجبار نے تعارف کرایا ہے، جن تک ان کی رسائی ہوئی، جن میں ایک کتاب 85 جلدوں میں بھی تھی، جس کو ڈاکٹر صاحب نے ایک ہی کتاب شمار کیا ہے، ایک کتاب عربی زبان میں کسی شام کے عالم کی تھی، جس میں حضور ﷺ کے صرف نعلین شریفین پر لکھی گئی عربی زبان کی کتابوں کا تعارف کرایا گیا ہے، صرف نعلین شریفین پر ا...

طبع نازک پہ گذرتا ہے گراں تو گذرے

 طبع نازک پہ گذرتاہے گراں توگذرے.                                     ___________________________ "یقیناً تم عورتوں کوچھوڑکرمردوں سےشہوت پوری کرتے ہواورتم حدسےگذرنےوالےلوگ ہو"  یہ کسی عام آدمی کےالفاظ نہیں سیدنا لوط علیہ السلام کےالفاظ ہیں جو اللہ نےاپنی آخری کتاب میں نقل فرمائے ہیں سورہ اعراف کی 81 نمبر آیت ہے.  قومِ لوط بدفعلی، ہم جنس پرستی اور فحاشی جیسی لعنت میں مبتلاتھی لوط علیہ السلام اللہ کےنبی تھےجو ان کی اصلاح پر مامور تھے اگر وہ اس گھٹیا فعل کوزبان پرلانے سےہی کتراتے اس ڈر سے اس کاتذکرہ ہی نہ کرتے کہ پتہ نہیں لوگ کیاکہیں گے، کیاسمجھیں گے اللہ کےنبی کوزیب نہیں دیتا اس قسم کی گندی چیزوں کاتذکرہ، میری شرافت مجھے اس کانام زبان پرلانے کی اجازت نہیں دیتی. وغیرہ وغیرہ تو انسانی سوسائٹی کایہ بدترین جرم یوں ہی صدیوں سے آرام سےچلتا پنپنا رہتا قرآن اس قصے کو باربار ذکر نہ کرتا تو شاید انسانوں میں یہ شرمناک کام قانونی حیثیت ہی اختیار کرلیتا.  آج عجب منطق ہے مرد وزن کےآزادانہ اختلا...

Aqeeda Khatm E Nabowat

 ادارہ فہم خاتم النبیین کورس      ⚪ Faham khatmunbyyen cours                    *lesson No:2* ⭕*Importance of Belief of Khatm_e_Nubuwat* Belief in Khatm-e-Nubuwwat is one of the basic and important article of faith. From the Holy Prophet SallAllah-o-Alaihi Wa Aalihi Wasallam’s time to this day every Muslim has the belief that Muhammad SallAllah-o-Alaihi Wa Aalihi Wasallam is the last Prophet of God without any doubt. There are more than one hundred Ayahs of Holy Quran and more than 200 hundred Hadiths that explains that Holy Prophet Muhammad SallAllah-o-Alaihi Wa Aalihi Wasalam is the last of all Prophets and there will be no Prophet (Nabi or Rasool) after him in any form or in any interpretation. So, Hazrat Maulana Syed Muhammad Anwar Shah Kashmiri (Rahmatullah Alaih) writes in his last book “Khatm-e-Nubuwwat” that: “And the first ever consensus of Muslim opinion was the consensus on the murder of Muslima Kazab. Its ...

عقیدہ ختم نبوت سبق 2

 فہم خاتم النبیین ﷺ کورس  *"سبق نمبر 2 کا مختصر تعارف"*    👇👇👇👇👇👇👇 ⚪ *آیتِ ختم نبوت کی علمی تحقیق* 👈  *آیتِ ختم نبوت کا شان نزول* ⭐ *آیتِ ختم نبوت کی تفسیر دوسری قرآنی آیات سے* ⭕ *خاتم النبیین کی تفسیر احادیث مبارکہ سے*   🚨 *آیتِ خاتم النبیین پر قادیانیوں کے اعتراضات اور انکے علمی تحقیقی جوابات*  ادارہ فہم خاتم النبیین ﷺ کورس                 *سبق نمبر 2*   آیت خاتم النبیین کی علمی تحقیقی تفسیر ⚪ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔  *مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ  اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ  النَّبِیّٖنَ ؕ وَ  کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ۔*  محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں،لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں،اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں،اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 40)* ⚪ "آیت کا شان نزول"* عرب معاشرے میں یہ قبیح رسم موجود تھی کہ وہ لےپالک بیٹے کو حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اور ا...

تم ایسا نہیں کر سکتے

ایک گاؤں میں دو بچے رہتے تھے۔ایک کی عمر دس سال اور دوسرے کی چھے سال تھی۔ دونوں لنگوٹیے یار تھے۔ایک دن کھیلتے کھیلتے گاؤں سے تھوڑا باہر آ گئے۔ گاؤں سے باہر کھیلتے ہوئے دس سال کا بچہ کنویں میں گر گیا۔اور چیخنے چلانے لگا۔ چھے سال کے بچے نے ادھر ادھر دیکھا کوئی مدد کا امکان نظر نہ آیا تو اس نے کنویں پر رسی سے بندھا ڈول *(بالٹی)* نیچے پھینک دیا اور دوست کو کہا اس پکڑ کر رکھو۔۔اور خود پوری جان لگا کر کھینچنا شروع کر دیا۔۔چھے سالہ بچہ اس وقت تک کھینچتا رہا تھا جب اسی ڈول سے چمٹا اس کا دوست کنویں سے باہر نہ آ گیا۔۔دونوں دوست ایک دوسرے سے مل کر رو رہے تھے ، خوش ہو رہے تھے اور ڈر رہے تھے کہ گاؤں میں جا کر اگر بتائیں گے کہ ہم گاؤں سے باہر گئے تھے اور بڑا دوست کنویں میں گر گیا تھا تو بہت ڈانٹ ڈپٹ ہو گی مار پڑے گی۔۔لیکن سب کچھ اس کے برخلاف ہوا۔۔۔گاؤں میں کسی نے ان کی بات کا یقین نہ کیا اور سب یہی کہتے رہے کہ چھے سال کے بچے میں اتنا زور کہاں وہ دس سال کے بچے کو کنویں سے باہر کھینچ لے۔۔پورے گاؤں میں ایک ہی دانا شخص رحیم چاچا تھا جس نے بچے کی بات کا یقین کیا۔سب گاؤں والے مل کا رحیم چاچا کے پاس گئے اور...

ابن بطوطہ (60 بادشاہوں سے ملنے والا سیاح)

        ایک ہزارسالہ مسلمانوں کے دور میں بے شمار سیاح پیداہوئے۔ اس زمانے میں حصول تعلیم میں سیاحت ایک طرح سے سند کا درجہ رکھتی تھی۔ ابن بطوطہ نام کا مسلمانوں کا عظیم سیاح گزراہے۔ انکاپورانام عبد ابن عبدالمعروف ''ابن بطوطہ‘‘ہے۔ 13فروری 1304ء کو مراکش کے ایک چھوٹے شہر''نانگیر‘‘میں پیداہوئے۔وہ قرون وسطیٰ کے عالمی شہرت کے حامل سیاح تھے۔ انہوں نے ایک مایہ ناز سفرنامہ ''رحالہ‘‘بھی تصنیف کیا۔ اس کتاب میں 75,000میل طویل سفر کی روداد نقل کی ہے۔ یہ سفر قافلوں کی شکل میں اور کبھی کبھی تنہا بھی کرتے رہے۔  اس دوران انہوں نے اسلامی ممالک دیکھے اور سمارٹا اور چین کے کچھ علاقوں میں بھی سیاحت کی غرض سے گئے۔ ابن بطوطہ ایک علمی گھرانے کے چشم وچراغ تھے، انکاساراخاندان محکمہ قضاسے منسلک تھا، مقامی علاقے کے قاضیوں کی اکثریت ابن بطوطہ کے خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ انہوں نے بھی اپنے بچپن اورآغاز شباب میں اسلامی فقہ وقضا کی تعلیم حاصل کی۔ 1325ء میں جب ان کی عمر 21برس کی تھی تو فریضۂ حج کی ادائیگی سے انہوں نے اپنی سیاحت کاآغاز کیا۔ اس دوران انہوں نے مصر، شام اور حجازکے متعدد شافعی المس...