اٹلی کے شہر روم کے وسط میں واقع ویٹی کن سٹی ایک مضبوط خودمختار ریاست ہے جس کا سربراہ پاپائے روم ہوا کرتا ہے۔ میں اکتوبر کے مہینے میں اپنے دوستوں کے ہمراہ اس کے وزٹ پر گیا تھا۔ یہاں ایک مقدس ہال ہے جہاں آرٹسٹوں نے اپنی بائبل کی روشنی میں نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ اس کی چھت پر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسی علیہ السلام تک کی تاریخ کا عکس دکھایا ہے۔ ہم اس ہال میں داخل ہوئے تو یہ کھچاکھچ بھرا ہوا تھا لیکن پورے ہال پر سناٹا طاری تھا۔ یہاں گفتگو کی اجازت تھی اور نہ ہی تصویرکشی کی۔ گویا یہ اس مقدس ہال کا احترام تھا۔ اب ذرا اس کے مقابلے میں ہم حرمین شریفین میں ہونے والی بےاحترامی اور بےادبی کو دیکھ لیں۔ وہ مدینہ جہاں ہمارے بزرگان دین کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے اور چلتے وقت قدموں کی آہٹ سے بھی خود کو بچایا کرتے تھے، میں نے بعض بزرگوں کے حوالے سے سنا ہے کہ وہ کسی قسم کی بےادبی کے خوف سے مدینہ میں زیادہ دیر تک رکتے بھی نہیں تھے لیکن اب تو وہاں عین روضہ رسول پر کیمرے چل رہے ہوتے ہیں، ویڈیو کالوں پر باتیں ہو رہی ہوتی ہیں، عین بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہو...
Posts
Showing posts from February, 2023
اب جنگلوں ہی کا قانون نافذ کر
- Get link
- X
- Other Apps
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی رنگ لرزتا ہے تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو کسی لکڑی کے تختے پر گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے خداوندا! جلیل و معتبر! دانا و بینا منصف و اکبر! مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر! زہرا نگاہ
بچوں کو اللہ سے کیسے جوڑیں؟
- Get link
- X
- Other Apps
مخلوق کا اپنے خالق سے جڑنا بہت ضروری ہے. جس کے لیے بچپن سے ہی ایسی پرورش ہونی چاہیے کہ بچوں کے دل و دماغ میں کوئی خلا باقی نہ رہے. اکثر بچوں کے معصومانہ سوالات اتنے بڑے ہوتے ہیں جو ماں باپ کو بھی پریشان کر دیتے ہیں. جیسے 💭 *اللہ تعالی کہاں ہیں؟* 💭 *اللہ تعالی ہمیں نظر کیوں نہیں آتے؟* 💭 *میں اللہ تعالی سے مل کیوں نہیں سکتا؟* اور ماں باپ کے لیے مشکل وقت تب ہوتا ہے جب بچے *teenage* میں آتے ہیں. ان کے سوالات سے بغاوت کی بو آتی ہے اور سوالیہ نشان بن کر سامنے آتے ہیں بچے proof مانگتے ہیں کہ مجھے بتائیں ! 🚫 *اللہ Exist کرتا ہے؟* 🚫 *اللہ تعالی نے ہماری زندگی مشکل کیوں بنا دی؟ (نعوذ بااللہ)* 🚫 *اللہ تعالیٰ نے فلاں کو اتنا سب نوازا ہے مگر مجھے کیوں نہیں؟ (نعوذ بااللہ)* دیکھیں، بچے فطرت پہ پیدا ہوتے ہیں تو آپ بھی انہیں فطرت کے ساتھ بڑھنے اور سمجھنے پر چھوڑ دیں، انہیں درجہ بہ درجہ گائیڈ کرتے رہیں. سات سال کی عمر سے بچوں کو دین و حق، باطل، جھوٹ، حلال اور حرام کا بتانا شروع کریں. زیادہ روک ٹوک بھی بچوں کو سیکھنے نہیں دیتی. کچھ خاص ظلمات جن سے تمام والدین اپنے بچوں کو بچانا چاہ...