Posts

Showing posts from February, 2023
     اٹلی کے شہر روم کے وسط میں واقع ویٹی کن سٹی ایک مضبوط خودمختار ریاست ہے جس کا سربراہ پاپائے روم ہوا کرتا ہے۔ میں اکتوبر کے مہینے میں اپنے دوستوں کے ہمراہ اس کے وزٹ پر گیا تھا۔ یہاں ایک مقدس ہال ہے جہاں آرٹسٹوں نے اپنی بائبل کی روشنی میں نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ اس کی چھت پر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسی علیہ السلام تک کی تاریخ کا عکس دکھایا ہے۔ ہم اس ہال میں داخل ہوئے تو یہ کھچاکھچ بھرا ہوا تھا لیکن پورے ہال پر سناٹا طاری تھا۔ یہاں گفتگو کی اجازت تھی اور نہ ہی تصویرکشی کی۔ گویا یہ اس مقدس ہال کا احترام تھا۔  اب ذرا اس کے مقابلے میں ہم حرمین شریفین میں ہونے والی بےاحترامی اور بےادبی کو دیکھ لیں۔ وہ مدینہ جہاں ہمارے بزرگان دین کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے اور چلتے وقت قدموں کی آہٹ سے بھی خود کو بچایا کرتے تھے، میں نے بعض بزرگوں کے حوالے سے سنا ہے کہ وہ کسی قسم کی بےادبی کے خوف سے مدینہ میں زیادہ دیر تک رکتے بھی نہیں تھے لیکن اب تو وہاں عین روضہ رسول پر کیمرے چل رہے ہوتے ہیں، ویڈیو کالوں پر باتیں ہو رہی ہوتی ہیں، عین بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہو...

اب جنگلوں ہی کا قانون نافذ کر

 سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے  سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا  درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے  ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں  تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر  کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے  سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے  سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں  بئے کے گھونسلے کا گندمی رنگ لرزتا ہے  تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں  کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو  کسی لکڑی کے تختے پر  گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں  سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے  خداوندا! جلیل و معتبر! دانا و بینا منصف و اکبر!  مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر!  زہرا نگاہ

بچوں کو اللہ سے کیسے جوڑیں؟

 مخلوق کا اپنے خالق سے جڑنا بہت ضروری ہے. جس کے لیے بچپن سے ہی ایسی پرورش ہونی چاہیے کہ بچوں کے دل و دماغ میں کوئی خلا باقی نہ رہے. اکثر بچوں کے معصومانہ سوالات اتنے بڑے ہوتے ہیں جو ماں باپ کو بھی پریشان کر دیتے ہیں. جیسے  💭 *اللہ تعالی کہاں ہیں؟* 💭 *اللہ تعالی ہمیں نظر کیوں نہیں آتے؟* 💭 *میں اللہ تعالی سے مل کیوں نہیں سکتا؟* اور ماں باپ کے لیے مشکل وقت تب ہوتا ہے جب بچے *teenage* میں آتے ہیں. ان کے سوالات سے بغاوت کی بو آتی ہے اور سوالیہ نشان بن کر سامنے آتے ہیں بچے proof مانگتے ہیں کہ مجھے بتائیں !  🚫 *اللہ Exist کرتا ہے؟* 🚫 *اللہ تعالی نے ہماری زندگی مشکل کیوں بنا دی؟ (نعوذ بااللہ)* 🚫 *اللہ تعالیٰ نے فلاں کو اتنا سب نوازا ہے مگر مجھے کیوں نہیں؟ (نعوذ بااللہ)* دیکھیں، بچے فطرت پہ پیدا ہوتے ہیں تو آپ بھی انہیں فطرت کے ساتھ بڑھنے اور سمجھنے پر چھوڑ دیں، انہیں درجہ بہ درجہ گائیڈ کرتے رہیں. سات سال کی عمر سے بچوں کو دین و حق، باطل، جھوٹ، حلال اور حرام کا بتانا شروع کریں. زیادہ روک ٹوک بھی بچوں کو سیکھنے نہیں دیتی. کچھ خاص ظلمات جن سے تمام والدین اپنے بچوں کو بچانا چاہ...