بچوں کو اللہ سے کیسے جوڑیں؟

 مخلوق کا اپنے خالق سے جڑنا بہت ضروری ہے. جس کے لیے بچپن سے ہی ایسی پرورش ہونی چاہیے کہ بچوں کے دل و دماغ میں کوئی خلا باقی نہ رہے.

اکثر بچوں کے معصومانہ سوالات اتنے بڑے ہوتے ہیں جو ماں باپ کو بھی پریشان کر دیتے ہیں. جیسے 

💭 *اللہ تعالی کہاں ہیں؟*

💭 *اللہ تعالی ہمیں نظر کیوں نہیں آتے؟*

💭 *میں اللہ تعالی سے مل کیوں نہیں سکتا؟*


اور ماں باپ کے لیے مشکل وقت تب ہوتا ہے جب بچے *teenage* میں آتے ہیں. ان کے سوالات سے بغاوت کی بو آتی ہے اور سوالیہ نشان بن کر سامنے آتے ہیں بچے proof مانگتے ہیں کہ مجھے بتائیں ! 


🚫 *اللہ Exist کرتا ہے؟*

🚫 *اللہ تعالی نے ہماری زندگی مشکل کیوں بنا دی؟ (نعوذ بااللہ)*

🚫 *اللہ تعالیٰ نے فلاں کو اتنا سب نوازا ہے مگر مجھے کیوں نہیں؟ (نعوذ بااللہ)*


دیکھیں، بچے فطرت پہ پیدا ہوتے ہیں تو آپ بھی انہیں فطرت کے ساتھ بڑھنے اور سمجھنے پر چھوڑ دیں، انہیں درجہ بہ درجہ گائیڈ کرتے رہیں.

سات سال کی عمر سے بچوں کو دین و حق، باطل، جھوٹ، حلال اور حرام کا بتانا شروع کریں. زیادہ روک ٹوک بھی بچوں کو سیکھنے نہیں دیتی. کچھ خاص ظلمات جن سے تمام والدین اپنے بچوں کو بچانا چاہتے ہیں.

*ہر وہ چیز، شخص اور عمل جس سے بچہ اللہ سے دور ہو جائے.*

 *ابلیس، ہر شخص اپنے بچوں کو ابلیس سے بچانا چاہتا ہے.*

 *ہمارے بچوں میں I think والی سوچ نہ ہو کہ وہ دین کو خود کے لیے نہ لیں. اسے اپنے مطابق بدلنے والے نہ ہوں.*

 *بچے علم نجوم کی طرف نہ جائیں.*


🏮 *کرنے کے کام*🏮


⚡ *اللہ سبحان وتعالی کا رب ہونا، ربوبیت کے بارے میں بتانا ہے.*

⚡ *اللہ سبحان وتعالی کے اسماء و صفات سیکھانا اور نہ صرف سکھانا بلکہ وضاحت کے ساتھ سکھائیں.*

⚡ *خود کو proactive  رکھیں ، ماضی میں کیا غلطیاں ہوئی ہیں؟ اردگرد کے لوگوں سے کیا غلطیاں ہوئی ہیں؟*

⚡ *Check the challenges of society*


⚡ *ایک سے چار سال کے بچے کو سکھانا تو بہت آسان کام ہے، انہیں آپ کلمے سیکھا سکتے ہیں*

⚡ *سورہ الفرقان کی آیت نمبر دو، حدیث میں آتا ہے جب بچہ بولنے لگے تو اسے وہ آیت سکھائی جائے.*

⚡ *اس عمر میں بچوں کی photo memory بہت مضبوط ہوتی ہے آپ اپنے گھر میں جگہ جگہ اللہ سبحان وتعالی کے نام کی تصاویر لگا سکتے ہیں.*

⚡ *انہیں ایسی چیزوں ، گیمز سے دور رکھیں جن میں بے حیائی ہو، میوزک ہو. یہ مت سوچیں کہ ابھی کون سی زیادہ عمر ہے بلکہ یہی وہ عمر کا حصہ ہے جس میں بچہ اپنے لیے چیزیں پسند کرتا ہے ان میں اپنا سکون تلاش کرتا ہے اور آگے جا کر یہی reflect کرے گا.*

⚡ *5 سے 7 سال کا بچہ: ان بچوں کے لیے سکول میں جو activities شروع کی گئی ہوتی ہیں آپ گھر میں انہی کو جاری رکھ کر بہت کچھ سکھا سکتی ہیں جیسے ناظرہ کلاس سکول میں ہوتی ہے آپ گھر میں ٹائم منتخب کریں اور کم از کم ایک آیت سکھائیں اور سمجھائیں.* 

⚡ *جب بھی کوئی بات سکھائیں بہت پیار سے اچھے انداز سے نہ کے آپ کا انداز طنزیہ ہو.*

⚡ *ہر لمحہ ہر پل یہ دھیان رکھیں کہ دنیا پل پل ہمیں، ہمارے بچوں کو بس یہ سکھانے میں لگی ہے کہ life is all about fun لیکن ہمارا دین بلکل اس کے opposite ہے. گیمز ، میوزک ، موویز اور سوشل میڈیا ہارمونز کو بڑھاتے ہیں جو بعد میں مشکل بنتی ہے.*

⚡ *ہفتے میں ایک دن انہیں قرآن کلاس میں ضرور لے کر جائیں.*

⚡ *بچوں کو پڑھانے کے لیے سب سے پہلے خود سمجھیں. خود عمل کریں پھر بچوں کو سکھائیں.*

⚡ *آپکی بات زیادہ سے زیادہ ایک جملے پر مشتمل ہونی چاہیے اور ایک منٹ سے زیادہ نہیں. چاہے دن میں ایک ہزار بار سمجھائیں لیکن بات مختصر کریں لیکچر نہیں ہونا چاہیے.*

⚡ *آخر میں نہیں  بلکہ سب سے پہلے اللہ سے اپنا اور اس کا تعلق مضبوط ترین رکھیں. آپ کا بچہ اگر آپکے ہاتھ سے نکل بھی گیا تو وہ اللہ کے ہاتھ میں تو ہے نا !! اللہ پر توکل رکھیں. اللہ سے دعا کریں ماں کی دعا تو کبھی رد نہیں ہوتی خود بھی یقین رکھیں اور بچوں کو بھی بتائیں... کہ ہر قدم ہر معاملے میں اللہ کی ذات سے توکل رکھیں، اسی پہ بھروسہ کریں، اسی سے ہر چیز مانگیں، اسی سے اپنا ہر دکھ سکھ بانٹیں، کیونکہ اللہ ہمارا سب سے بہترین دوست بھی ہے، وہی ہمارا ولی ہے، ہمارا رب ہے، سب اسی کا ہے اور ہمارے لیے ہر فیصلہ اسی کی مصلحت پہ مشتمل ہوتا ہے...*


*صدقہ جاریہ کی نیت سے شٸیر کیجۓ ہو سکتا ہے آپک تھوڑی سی کوشش کسی کی ھدایت کا ذریعہ بن جاۓ*

Comments

Popular posts from this blog

کم سنی میں حضرت عائشہ -رضی الله عنہا- کا نکاح

خاتون ۔۔۔ لڑکی