اٹلی کے شہر روم کے وسط میں واقع ویٹی کن سٹی ایک مضبوط خودمختار ریاست ہے جس کا سربراہ پاپائے روم ہوا کرتا ہے۔ میں اکتوبر کے مہینے میں اپنے دوستوں کے ہمراہ اس کے وزٹ پر گیا تھا۔ یہاں ایک مقدس ہال ہے جہاں آرٹسٹوں نے اپنی بائبل کی روشنی میں نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ اس کی چھت پر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسی علیہ السلام تک کی تاریخ کا عکس دکھایا ہے۔

ہم اس ہال میں داخل ہوئے تو یہ کھچاکھچ بھرا ہوا تھا لیکن پورے ہال پر سناٹا طاری تھا۔ یہاں گفتگو کی اجازت تھی اور نہ ہی تصویرکشی کی۔ گویا یہ اس مقدس ہال کا احترام تھا۔ 

اب ذرا اس کے مقابلے میں ہم حرمین شریفین میں ہونے والی بےاحترامی اور بےادبی کو دیکھ لیں۔ وہ مدینہ جہاں ہمارے بزرگان دین کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے اور چلتے وقت قدموں کی آہٹ سے بھی خود کو بچایا کرتے تھے، میں نے بعض بزرگوں کے حوالے سے سنا ہے کہ وہ کسی قسم کی بےادبی کے خوف سے مدینہ میں زیادہ دیر تک رکتے بھی نہیں تھے لیکن اب تو وہاں عین روضہ رسول پر کیمرے چل رہے ہوتے ہیں، ویڈیو کالوں پر باتیں ہو رہی ہوتی ہیں، عین بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی تصویریں بنوائی جاتی ہیں، حالت احرام میں اس سے دریغ نہیں کیا جاتا۔ یقین جانیے اس طرح کی ویڈیوز اور تصاویر کو دیکھ کر میرا تو خون کھولتا ہے۔ کیا مولوی اور کیا عامی، سب ہی اس لعنت میں مبتلا ہیں۔ کوئی احساس ہی نہیں کہ ہم کدھر کھڑے ہیں۔

محمد اسحاق عالم


انتخاب: 

کشکول اردو

Comments

Popular posts from this blog

کم سنی میں حضرت عائشہ -رضی الله عنہا- کا نکاح

خاتون ۔۔۔ لڑکی