قبلہءاول پہ اسرائیل کی یلغاراور امت مسلمہ کی ذمہ داری

                                                قبلہءاول پہ اسرائیل کی یلغاراور  امت مسلمہ کی ذمہ داری                         

  وادیء یثرب میں کچھ لوگ آکر آباد ہوئے تو عرب قبائل نے انہیں تنگ کرنا شروع کیا ۔ عرب چونکہ غالب تھے اور نووارد

مغلوب ، چنانچہ وہ کہتے عنقریب ہمارا مسیحا اور خدا کا آخری پیغمبر ﷺ نمودار ہونے والا ہے ہماری کتابوں کی پہشین گوئیوں کے مطانق ان کے ظہور کی یہی جگہ ہے اور وقت بھی قریب ہے ۔ ہم اس کے ساتھ مل کر تم سے بدلہ لیں گے کیونکہ اللہ تعالی ااسے یقینا غلہ دیں گے۔  

    روایات میں آتا ہے کہ یہود کی مدینہ طیبہ آمد و آبادی کا مقصود محض حضور ﷺ کا انتظار تھا کہ ان کی تائید و تقلید کی جا سکے۔ ھدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے جو منتظر تھے وہ جان کے دشمن بن گئے۔ محض اس لیے کہ نبوت بنی اسرائیل میں چلتے چلتے سردار انبیاء پھر ایسا کیوں جو بنی اسرائیل سے نہیں ھے۔ حالانکہ اللہ کی تقسیم ہے وہ جسے چاہے نواز دے ۔ لیکن شیطان نے ایک سجدے سےانکار  نہیں کیا بلکہ منشاء خداوندی سے  روگردانی کر کے ہمیشہ کیلیے راندہء درگاہ ہوا۔ بالکل ایسے ہی یہود نے منشاء خداوندی پہ لبیک کہنے کے بجائے لعنت و ہھٹکار کو اپنا مقدر بنا لیا اور یوں خانوادہ نبوت سے تعلق رکھنے والے خاندان ابلیس میں داخل ہوئے اور حق تعالی شانہ نے انہیں بارہا مختلف حیلوں سے بلایا مواقع فراہم کیے اور بارہا توبہ کی طرف متوجہ کیا مگر بد باطن قوم ہر موقع کو اپنا کمال اور مسلمانوں کا زوال سمجھتی رہی اور یوں پہلے مدینہ طیبہ اور پھر خیبر میں انہیں جزیرہ عرب سے نکال باہر پھینک دیا گیا۔

    کچھ دنوں سے ایک پوسٹر سوشل میڈیا پہ گردش کر رہا ہے جس میں لکھا ہیکہ'' خیبر تمھارا آخری موقع تھا " یعنی اس کے بعد یہود کو شکست دینا تمہارے بس میں نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی میدانوں میں ان کو منہ کی کھانی پڑی ہے اور ہمارا ایمان ہیکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام غالب ہو کر رہے گا۔ انشاءاللہ  اور باطل کے سارے دعوے اس کے منہ پہ مار دیے جائیں گے۔

                         آجکل فلسطین پہ اسرائیلی جارحیت پوری دنیا میں موضوعِ سخن ہے/  

جاری ہے               

Comments

Popular posts from this blog

کم سنی میں حضرت عائشہ -رضی الله عنہا- کا نکاح

خاتون ۔۔۔ لڑکی