عقیدہ ختم نبوت کورس۔ سبق 1
*فہم خاتم النبیین ﷺ کورس*
سبق نمبر 1 🌹
⚪(1)عقیدہ ختم نبوت کی تعریف
⚪(2)عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت
اسلام کی بنیاد توحید اور آخرت کے علاوہ جس اساسی عقیدے پر ہے، وہ یہ ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نبوت اور رسالت کے مقدس سلسلے کی تکمیل ہو گئی اور آپ کے بعد کوئی بھی شخص کسی بھی قسم کا نبی نہیں بن سکتا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کسی پر وحی آ سکتی ہے اور نہ ایسا الہام جو دین میں حجت ہو۔ اسلام کا یہی عقیدہ ’’ختم نبوت‘‘ کے نام سے معروف ہے اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کسی ادنی اختلاف کے بغیر اس عقیدے کو جزوِ ایمان قرار دیتی آئی ہے۔ قرآن کریم کی بلا مبالغہ بیسیوں آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سینکڑوں احادیث اس کی شاہد ہیں۔ یہ مسئلہ قطعی طور پر مسلّم اور طے شدہ ہے اور اس موضوع پر بے شمار مُفصّل کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔
👈 *(2)عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضلیت*
ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں، اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ، رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث متواترہ (دو سو دس احادیث مبارکہ) سے یہ مسئلہ ثابت ہے، آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لئے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی کل تعداد 259 ہے اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور تابعین رحمۃ اﷲ علیہ کی تعداد بارہ سو ہے جن میں سے سات سو قرآن مجید کے حافظ اور عالم تھے۔رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کرگئی۔ اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔
👈 حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اﷲ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہاں، مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ) بھی اﷲ کا رسول ہوں؟ حضرت حبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ میں بہرا ہوں تیری یہ بات نہیں سن سکتا، مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا، وہ یہی جواب دیتے رہے اور مسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا حتی کہ حبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بن زید کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہید کردیا گیا۔اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے، اب حضرات تابعین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ میں سے ایک تابعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بھی ملاحظہ ہو: ’’حضرت ابو مسلم خولانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جن کا نام عبداﷲ بن ثوب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہے اور یہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اﷲ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتش نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔ یہ یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد مبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے لیکن سرکاردو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی پیدا ہوا۔ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لئے مجبور کیا کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے حضرت ابو مسلم خولانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابو مسلم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے انکار کیا پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابو مسلم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہاں، اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی اور حضرت ابو مسلم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اﷲ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ کو بے اثر فرمادیا، اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقأ پر ہیبت سی طاری ہوگئی اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلاوطن کردو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے پیروؤں کے ایمان میں تزلزل آجائے، چنانچہ انہیں یمن سے جلاوطن کردیا گیا۔ یمن سے نکل کرمدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب ان سے ملے تو فرمایا’’اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس شخص کی زیارت کرادی جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا تھا۔ “
👈 منصب ختم نبوت کا اعزاز
قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ کے متعلق ”رب العالمین“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ”رحمۃ للعالمین“ قرآن مجید کے لئے ”ذکر للعالمین“ اور بیت اللہ شریف کے لئے ”ھدی للعالمین“ فرمایا گیا ہے، اس سے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی آفاقیت و عالمگیریت ثابت ہوتی ہے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف ختم نبوت کا اختصاص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ثابت ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے علاقہ، مخصوص قوم اور مخصوص وقت کے لئے تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حق تعالیٰ نے کل کائنات کو آپ کی نبوت و رسالت کے لئے ایک اکائی (ون یونٹ) بنادیا۔جس طرح کل کائنات کے لئے اللہ تعالیٰ ”رب“ ہیں، اسی طرح کل کائنات کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ”نبی“ ہیں۔ یہ صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعزاز و اختصاص ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے جن چھ خصوصیات کا ذکر فرمایا ان میں سے ایک یہ بھی ہے:: ”میں تمام مخلوق کے لئے نبی بناکر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔“ (مشکوٰۃ صفحہ 512 باب فضائل سید المرسلین‘ مسلم جلد1 صفحہ 199
قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ کے متعلق ’’رب العالمین‘‘ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ’’رحمۃ للعالمین‘‘ قرآن مجید کے لئے ’’ذکر للعالمین‘‘ اور بیت اﷲ شریف کے لئے ’’ھدی للعالمین‘‘ فرمایا گیا ہے، اس سے جہاں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی آفاقیت و عالمگیریت ثابت ہوتی ہے، وہاں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصف ختم نبوت کا اختصاص بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ثابت ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تمام انبیأ علیہم السلام اپنے اپنے علاقہ، مخصوص قوم اور مخصوص وقت کے لئے تشریف لائے، جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے تو حق تعالیٰ نے کل کائنات کو آپ کی نبوت و رسالت کے لئے ایک اکائی (ون یونٹ) بنادیا۔جس طرح کل کائنات کے لئے اﷲ تعالیٰ ’’رب ‘‘ ہیں، اسی طرح کل کائنات کے لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ’’نبی‘‘ ہیں۔ یہ صرف اور صرف آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا اعزاز و اختصاص ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے لئے جن چھ خصوصیات کا ذکر فرمایا ان میں سے ایک یہ بھی ہے:: ’’میں تمام مخلوق کے لئے نبی بناکر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔‘‘ (مشکوٰۃ صفحہ 512 باب فضائل سید المرسلین‘ مسلم جلد1 صفحہ 199 )
👈 آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت آخری امت ہے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا قبلہ آخری قبلہ بیت اﷲ شریف ہے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل شدہ کتاب آخری آسمانی کتاب ہے۔ یہ سب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ منصب ختم نبوت کے اختصاص کے تقاضے ہیں جو اﷲ تعالیٰ نے پورے کردیئے، چنانچہ قرآن مجید کو ذکر للعالمین اور بیت اﷲ شریف کو ھدی للعالمین کا اعزاز بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے صدقے میں ملا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی امت آخری امت قرار پائی جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: ’’انا آخر الانبیأ وانتم آخرالامم۔‘‘ (ابن ماجہ صفحہ297) جاری
⚪ عالم ارواح میں عقیدہ ختم نبوتﷺ کا تذکرہ"*
وَ اِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّ حِکۡمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنۡصُرُنَّہٗ ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَ اَخَذۡتُمۡ عَلٰی ذٰلِکُمۡ اِصۡرِیۡ ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ؕ قَالَ فَاشۡہَدُوۡا وَ اَنَا مَعَکُمۡ مِّنَ الشّٰہِدِیۡنَ۔
اور (ان کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ:اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں،پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس (کتاب) کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے ، تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے ، اور ضرور اس کی مدد کرو گے ۔ اللہ نے (ان پیغمبروں سے) کہا تھا کہ:کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے دی ہوئی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ انہوں نے کہا تھا:ہم اقرار کرتے ہیں۔اللہ نے کہا:تو پھر (ایک دوسرے کے اقرار کے) گواہ بن جاؤ،اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی میں شامل ہوں۔
(آل عمران آیت نمبر 81)
اس آیت کریمہ میں بھی حضورﷺ کی آمد کا ذکر ہے کہ اگر وہ آخری نبی کسی دوسرے نبی کے زمانہ نبوت میں آ گئے تو اس نبی کو اپنی نبوت کی تبلیغ چھوڑ کر نبی آخر الزماںﷺ کی پیروی کرنی پڑے گی۔یعنی عالم ارواح میں بھی حضورﷺ کی ختم نبوت کا تذکرہ ہورہا ہے۔
⚪"عالم دنیا میں عقیدہ ختم نبوتﷺ کا تذکرہ"*
عالم دنیا میں سب سے پہلے سیدنا آدمؑ پیدا ہوئے لیکن حضورﷺ نے فرمایا کہ
"انی عنداللہ مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طیینتہ"
میں اس وقت بھی (لوح محفوظ میں) آخری نبی لکھا ہوا تھا جب آدمؑ ابھی گارے میں تھے۔
(مشکوۃ حدیث نمبر 5759،باب فضائل سید المرسلینﷺ)
(کنزالعمال حدیث نمبر 31960 ٬ باب فی فضائل متفرقة تنبی عن التحدث بالنعم و فیه ذکر ذکر نسبه ﷺ)
اللہ تعالٰی نے دنیا میں جس نبی کو بھی بھیجا اس کے سامنے حضورﷺ کے آخری نبی ہونے کا ذکر یوں فرمایا۔
"لم یبعث اللہ نبیا آدم ومن بعدہ الا اخذ اللہ علیہ العھد لئن بعث محمدﷺ وھو حی لیومنن بہ ولینصرنہ"
حق تعالی نے انبیاء کرامؑ میں سے جس کو بھی مبعوث فرمایا تو یہ عہد ان سے ضرور لیا کہ اگر ان کی زندگی میں محمدﷺ تشریف لے آئیں تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔
(تفسیر ابن جریر (عربی) جلد 5 صفحہ 540 تفسیر آیت نمبر 80 سورہ آل عمران طبع مصر 2001ء)
اس کے علاوہ حضورﷺ نے فرمایا کہ
"بین کتفی آدم مکتوب محمد رسول اللہ خاتم النبیین"
آدمؑ کے دونوں کندھوں کے درمیان محمد رسول اللہﷺ آخری نبی لکھا ہوا تھا۔
(خصائص الکبری جلد 1 صفحہ 19 طبع ممتاز اکیڈمی لاہور )
اس کے علاوہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ
عن ابی ھریرۃ ؓ قال قال رسول اللہﷺ لما نزل آدم بالھند واستوحش فنزل جبرائیل۔فنادی باالاذان اللہ اکبر مرتین۔اشھد ان لا الہ الااللہ مرتین۔ اشھد ان محمد الرسول اللہ مرتین۔قال آدم من محمد۔فقال ھو آخر ولدک من الانبیاء۔
حضرت ابوہریرة ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدمؑ جب ہند میں نازل ہوئے تو ان کو (بوجہ تنہائی) وحشت ہوئی تو جبرائیلؑ نازل ہوئے اور اذان پڑھی۔اللہ اکبر 2 بار پڑھا۔اشھد ان لا الہ الااللہ 2 بار پڑھا۔اشھد ان محمد الرسول اللہ 2 بار پڑھا۔آدمؑ نے جبرائیلؑ سے پوچھا محمدﷺ کون ہیں تو جبرائیلؑ نے فرمایا کہ انبیاء کرامؑ کی جماعت میں سے آپؑ کے آخری بیٹے ہیں۔
(کنزالعمال حدیث نمبر 32139 ٬ باب فی فضائل متفرقة تنبی عن التحدث بالنعم و فیه ذکر ذکر نسبه ﷺ)
⚪*"عالم برزخ یعنی عالم قبر میں عقیدہ ختم نبوتﷺ کا تذکرہ"*
قبر میں جب فرشتے مردے سے سوال کریں گے کہ تیرا رب کون ہے اور تیرا دین کیا ہے اور تیرے نبی کون سے ہیں۔تو مردہ جواب دے گا کہ
ربی اللہ وحدہ لاشریک لہ الاسلام دینی محمد نبی وھو خاتم النبیین فیقولان لہ صدقت۔
میرا رب وحدہ لاشریک ہے۔میرا دین اسلام ہے۔ اور محمدﷺ میرے نبی ہیں اور وہ آخری نبی ہیں۔یہ سن کر فرشتے کہیں گے کہ تو نے سچ کہا ۔
(تفسیر درمنثور (عربی)جلد 14 صفحہ 235 تفسیر سورة الواقعہ آیت نمبر 83 مطبوعہ مصر 2002ء)
(تفسیر درمنثور (اردو ترجمہ) جلد 6 صفحہ 404 تفسیر سورة الواقعہ آیت نمبر 83 مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور 2006ء)
⚪"عالم آخرت میں بھی عقیدہ ختم نبوتﷺ کا تذکرہ"*
"عن ابی ھریرۃ فی حدیث الشفاعتہ فیقول لھم عیسی علیہ السلام ۔۔۔اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا، فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتِمُ الْأَنْبِيَاءِ"
حضرت ابو ھریرۃ ؓ سے ایک طویل روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا۔جب لوگ حضرت عیسیٰؑ سے قیامت کے روز شفاعت کے لئے عرض کریں گے تو وہ کہیں گے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جاؤ۔لوگ میرے پاس آیئں گے اور کہیں گے اے اللہ کے رسول محمدﷺ آخری نبی۔
(بخاری حدیث نمبر 4712 ٬ کتاب التفسیر٬ باب ذریة من حملنا مع نوح)
لیجئے قیامت کے دن بھی حضورﷺ کی ختم نبوت کا تذکرہ ہوگا۔
⚪ *"حجتہ الوداع میں عقیدہ ختم نبوتﷺ کا تذکرہ"*
"عن ابی امامتہ ؓ قال قال رسول اللہﷺ فی خطبتہ یوم حجتہ الوداع ایھاالناس انہ لانبی بعدی ولا امتہ بعدکم"
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنے خطبہ حجتہ الوداع میں فرمایا اے لوگو! نہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ تمہارے بعد کوئی امت ہوگی۔
(کنزالعمال حدیث نمبر 12918 ٬ باب حجة الوداع)
⚪*خلاصہ*
ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ نبیوں کی تعداد حضورﷺ کے تشریف لانے سے پوری ہوچکی ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ اتنا ضروری اور اہم عقیدہ ہےکہ عالم ارواح ہو یا عالم دنیا،عالم برزخ ہو یا عالم آخرت،ہر جگہ اللہ تعالٰی نے حضورﷺ کے 2آخری نبی ہونے کے تذکرے کروائے ہیں۔
Comments
Post a Comment