اسلام۔۔۔ تلوار یا اخلاق؟

 فرمایااسلام تلوار سے پھیلا یا اخلاق سے ؟ یہ سوال مستقل باعث اختلاف کیوں ہے ؟ یہ بحث کسی نتیجے تک کیوں نہیں پہونچتی ؟"


عرض کیا


اس بحث نے مسلمانوں کی جہالت کے دور میں جنم لیا ہے۔ یہ سوال نہ تو قرون اولی میں زیر بحث رہا اور نہ ہی قرون وسطی میں۔ یہ اس دور کا سوال ہے جس میں مسلمانوں نے علم کو پشت دکھا کر خرافات کو اپنی ترجیح بنا لیا۔ ورنہ یہ کوئی پیچیدہ سوال ہی نہیں ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی باشعور سماج میں یہ سوال اتنا عرصہ قدم جما سکے۔ بات بہت سادہ سی ہے۔ آپ ہتھیار کے ذریعے جغرافیہ تو فتح کر سکتے ہیں لیکن اس جغرافیے پر موجود قوم کو نہیں جیت سکتے۔ قوموں کو صرف اخلاق سے جیتا جاسکتا ہے۔ یورپ کے کلونیل راج کا خاتمہ کیوں ہوا ؟ کیونکہ جغرافیہ تو انہوں نے فتح کر لیا تھا لیکن محکوم قوموں کے قلوب نہ جیت سکے تھے۔ چنانچہ اس ضمن میں ان کی تاریخ میں دو تجربات ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کچھ جغرافیے ایسے تھے جو انہوں نے فتح کئے اور وہاں موجود اقوام کو محکوم بنا لیا۔ یعنی قوم کو زندہ رکھا۔ ایسے علاقوں سے سو، ڈیڑھ، اور ڈھائی  سو سال بعد بھی انہیں نکلنا پڑا۔ قوم کے دل نہ جیتے جاسکے تھے، چنانچہ ایک نہ ایک دن انہیں جغرافیہ چھوڑنا پڑا۔ دوسرا تجربہ انہوں نے تین علاقوں میں کیا۔ آسٹریلیا، امریکہ، اور کینیڈا۔ یہ علاقے قبضہ کرنے کے بعد انہوں نے وہاں کی مقامی اقوام کا قتل عام کیا۔ ان کی نسل تقریبا مٹا ہی ڈالی۔ چنانچہ ان جغرافیوں پر ان کا قبضہ بدستور موجود  ہے۔ اور اس قبضے کے خاتمے کا کوئی امکان بھی نہیں۔ کیونکہ زمین کے اصل مالکان کو وہ قتل کرچکے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تجربہ انہوں نے صرف ان تین علاقوں میں کیوں کیا ؟ جواب بہت سادہ ہے۔ یہ تینوں علاقے باقی دنیا سے کٹے ہوئے تھے۔ ان علاقوں تک باہر سے مستقل آمد و رفت شروع ہی فاتحین نے کروائی۔


 مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے ہتھیار کی مدد سے جغرافیے فتح کئے اور پھر اس پر رکے نہیں۔ بلکہ اخلاق کی مدد سے مقامی اقوام کے دل بھی جیتے۔ یوں مقامی لوگ ہی ایک بار پھر اپنی زمین کے مالک بن گئے۔ مثلا شامی، مصری، ترکی، ایرانی، اور روسی اقوام کا جغرافیہ مسلمان ہتھیاروں کی مدد سے ان کے ہاتھ سے نکلا۔ مگر جلد ہی جب مسلم اخلاق کے زیر اثر آکر انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو خود یہی اقوام ایک بار پھر اپنے علاقوں کی مالک بن گئیں۔ آپ آج بھی دیکھ لیجئے ان علاقوں کے مسلم باشندے وہیں کے قدیمی مقامی لوگ ہیں۔ اور کسی زمانے میں انہیں فتح کرنے والے عرب اب ویزہ لے کر ان علاقوں میں جاتے ہیں۔ سو یہ دعوی کرنا کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے، پرلے درجے کے جہل کے سوا کچھ نہیں۔ اگر یہ فقط تلوار کا نتیجہ ہوتا  تویورپین کلونیل راج کی طرح ان کا بھی ان جغرافیوں سے وجود مٹ چکا ہوتا۔ فقط جغرافیہ اور وسائل مسلم حربی شعور کا مطلوب و مقصود ہی نہیں۔ یہ شوق صرف مغربی اقوام کا ہی خاصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کسی ایک بھی مفتوحہ علاقے کے لوگوں کے قلوب نہ جیت سکے۔ آپ لطیفہ دیکھئے کہ انہیں مختلف ادوار میں مسلم مفتوحہ علاقوں میں آج کے لبرلز ٹائپ کے جو خود غرض کاسہ لیس ملے، اپنے "اسلام" سے وہ بھی دستبردار نہیں ہوئے۔ ان کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے تو ملاتے ہیں مگر اپنے دین سے دستبردار ہونے کو ہمارے وہ غود غرض بھائی بھی تیار نہیں ہیں۔ گویا حقیقی معنی میں یہ ان کے بھی دل نہیں جیت سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے قبضے کو دوام بخشنے کے لئے تین جگہ قتل عام کی راہ اختیار کرنی پڑی۔ افغانستان میں باراک اوباما نے "دل اور دماغ جیتنے کی حکمت عملی" متعارف کرائی۔ مگر جس نظام کی اساس اس کے اپنے گھر میں  ہی استحصال پر ہو وہ گھر سے باہر کسی کا دل کیا جیتتا ؟ عیاش قومیں دل نہیں جیت سکتیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کم سنی میں حضرت عائشہ -رضی الله عنہا- کا نکاح

خاتون ۔۔۔ لڑکی