پہلی ڈیجیٹل نسل
پہلی ڈیجیٹل نسل!
٭٭٭
اسی کی دہائی میں پیدا ہونے والے ہم جیسے ادھیڑ عمر حضرات اور ہماری ہم عمر بہنیں (لڑکیاں) شاید وہ آخری نسل ہیں، جن کے بچپن سے موت تک کے ہر اہم وغیر اہم پل عکس بند نہیں ہوسکے ہیں۔
ہمارے بچپن میں تو شاید سال میں ایک آدھ بار ہی عید وغیرہ کے موقع پر فوٹو اسٹوڈیو جا کر بہن بھائیوں کی گروپ فوٹو ہو جاتی تھی۔
ہم سب قد کے حساب سے قطار میں کھڑے کر دیے جاتے۔
اسٹوڈیو والا ایک بوسیدہ سے میلے پھولوں والے گلدستے کا اسٹینڈ ہمارے پاس رکھ دیتا اور کہتا: اسمائل پلیز!
اور ہم سب ہونق سے گھبرائے ہوئے چہرے کے ساتھ کیمرے کے بلیک ہول میں دیکھتے پلانٹڈ اسمائل کرتے… اور کلک ہوجاتا۔
سو دیکھا جائے تو ہم اسی کی دہائی والوں کی تیس پینتیس کی عمر تک، بس عید یا کچھ شادی وغیرہ کی تقاریب کی کچھ فوٹوز ہی کسی دراز میں پڑی سڑتی ہوں گی!
مگر پچھلے دس سے بیس برس میں پیدا ہونے والے بچے وہ پہلی نسل ہیں، جو اپنی زندگی کے تقریبا ہر دن کا عکس سال بسال ڈیجیٹل البمزکی صورت میں جمع کررہے ہیں، اور جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلسل اضافہ ہوتا جاتا ہے!
سوچتے ہیں کہ یہ نسل جب ستر اسی سال کی ہوجائے گی، اور اپنا ستر اسی برس کا ہزارہا ٹیرابائٹ ڈیجیٹل ریکارڈ سنبھالتی دیکھتی ہوگی تو اپنے حصے کے غم آخرکیسے بھول پائے گی؟
کیونکہ یہ تو طے ہے کہ ہماری اس زمینی زندگی میں خوشیوں کے لمحات بہت ہی کم اور مختصر ہیں جبکہ غموں کے لمحات نسبتاً بہت زیادہ اور طویل ہیں۔
جی ہاں! ہم سبھی کے۔
سو ان محفوظ ڈیجیٹل لمحات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ وہ اذیت ناک لمحات، وہ غمگین یادیں جو شعور سے تحت الشعور کے کچرے میں پھینک دیے جانے کے لائق ہوتی ہیں، اور جو خودکار نظام کے تحت اس کچرے کی نذر ہوتی بھی رہتی ہیں، یہ بچے بے چارے بڑھاپے تک انھیں اٹھائے اٹھائے پھریں گے… پوسٹوں، فوٹوز، ویڈیوز اور میسیجز کی صورت…!
گویا یادوں کا ایک انبار ہوگا جو یقینا فرحت کم دے گا اعصاب پر بوجھ بہت زیادہ لاد دے گا۔
ذراسوچیے کہ وقت تو بہرحال گزرے گا اور ایک ایک کرکے ہم سبھی کا معین وقت آتا چلا جائے گا، سو اگر ہماری عمر ہمارے احباب سےزیادہ ہوئی تو ہماری فیس بکی دیواروں پر ہمارے زندہ دل مرحوم دوستوں کےکمنٹس تو بدستور رہیں گے، وہ مگر جواب دینے کے لیے نہ ہوں گے۔
یوں ایک ایک کرکے مردہ آئی ڈیز کا ایک ڈھیرتو لگتا رہے گا مگر ہرطرح کی یادیں زندہ رہیں گی۔
پچھلے آٹھ برسوں میں سات آٹھ مرحوم دوست جن کے ساتھ خوب ہنسنا بولنا، کھانا پینا ہوتا تھا، ان کی تصویریں، ویڈیوز، وائس میسیجز گاہے سامنے آتے ہیں تو ہر بار دل پر ایک نیا چرکا لگا جاتے ہیں۔ 😥
خیرقصہ مختصر؛ اپنی ڈیجیٹل تصویری یادوں کو گاہے گاہے ایڈٹ ڈیلیٹ کرتے رہا کیجیے۔
تلخ یادوں اور کڑوے لمحات سے پیچھا چھڑانے ہی میں عافیت ہے۔
بس ”احباب“ کو باقی رکھیے اور وہ بھی خود سے کیے اس عہد کے ساتھ کہ ان کے رازوں کی ہمیشہ حفاظت کریں گے، اور جب جب انھیں اپنی ڈیجیٹل لائبریری میں دیکھیں گے تو دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب سے ان کا اکرام ضرور کریں گے!
پس تحریر:
پیارے بھائیو بہنو اور دوستو! وعدہ کرو کہ کم ازکم ہمارے لیے ضرور دعا اور ایصال ثواب کے تحفے ضرور بھیجنا 😍
اور ہاں راز تو ہمارے کوئی تم لوگوں کے پاس ہیں نہیں، سو ہم سے کی گئی اوریجنل چیٹنگ چاہو تو لگا کر، رونے والی ایموجی ڈال خوب لائکس سمیٹ لینا، فل اجازت ہے! 😃
٭٭٭
محمد فیصل شہزاد
Comments
Post a Comment