طبع نازک پہ گذرتا ہے گراں تو گذرے

 طبع نازک پہ گذرتاہے گراں توگذرے.

                                    ___________________________


"یقیناً تم عورتوں کوچھوڑکرمردوں سےشہوت پوری کرتے ہواورتم حدسےگذرنےوالےلوگ ہو" 

یہ کسی عام آدمی کےالفاظ نہیں

سیدنا لوط علیہ السلام کےالفاظ ہیں جو اللہ نےاپنی آخری کتاب میں نقل فرمائے ہیں

سورہ اعراف کی 81 نمبر آیت ہے. 

قومِ لوط بدفعلی، ہم جنس پرستی اور فحاشی جیسی لعنت میں مبتلاتھی

لوط علیہ السلام اللہ کےنبی تھےجو ان کی اصلاح پر مامور تھے

اگر وہ اس گھٹیا فعل کوزبان پرلانے سےہی کتراتے

اس ڈر سے اس کاتذکرہ ہی نہ کرتے کہ پتہ نہیں لوگ کیاکہیں گے، کیاسمجھیں گے

اللہ کےنبی کوزیب نہیں دیتا اس قسم کی گندی چیزوں کاتذکرہ، میری شرافت مجھے اس کانام زبان پرلانے کی اجازت نہیں دیتی. وغیرہ وغیرہ

تو انسانی سوسائٹی کایہ بدترین جرم یوں ہی صدیوں سے آرام سےچلتا پنپنا رہتا

قرآن اس قصے کو باربار ذکر نہ کرتا

تو شاید انسانوں میں یہ شرمناک کام قانونی حیثیت ہی اختیار کرلیتا. 


آج عجب منطق ہے مرد وزن کےآزادانہ اختلاط سے معاشرے کےدینی اور اخلاقی اقدار کوپامال کرنے کوتوجرم نہیں کہاجاتا

ایک متنازع ماضی گذارنے والےسیاسی لیڈر سے بےباکانہ

میل ملاپ اور قربتیں چاہنےوالےاوباش طبقے کوسیاست کےنام پر کھلی چھوٹ دی جانے پرکسی کےکان پرجوں تک نہیں رینگتی


مگر اسے براکہنے پرسب کی شرافت جاگ جاتی ہے

بڑی حساسیت طاری ہوجاتی ہے، سوئی ہوئی بلکہ مری ہوئی غیرت انگڑائیاں لیتی ہے

غلط کوغلط کہنے والے کو طعنےدیے جارہے ہیں

ان کی تنقید وتنبیہ کوشرمناک کہاجاتاہے عورتوں کی توہین کہاجاتاہے

حالانکہ مولاناصاحب نے کسی کانام نہیں لیا

صرف زمینی حقیقت بتائی اور اس پر اپنی اور بےشمار باحیامسلمانوں کی تشویش کااظہارکیا

ناراض ہونے والےاگر پی ٹی آئی کےورکرز ہوں پھر توخیرہے

یہاں تو اینکرز صحافی اور غیر جانبدار حتی کہ مذہبی لوگ بھی مولاناپر طعن وتشنیع میں پیش پیش ہیں

ان کی ذات پر بدتمیزی اور رعونت کےساتھ گندے القاب چسپاں کررہے ہیں

کیاکسی مبہم کردار کاذکر کرکے اسے غلط کہناجرم ہے

اور ایک حقیقی اور قابل احترام ہستی کی ذات پر

ردعمل میں سب کچھ کہناجائز ہوجاتا ہے

َسوال تو یہ ہےکہ کیا ایسا کچھ نہیں کہاگیاہے جس پر

مولانا نے ردعمل دیاہے؟

پھر تویہی سوال ہوناچاہیے

 کس نےکہاکب کہا ثابت کریں!

اور ثبوت دینا مولانا کےذمےہوگا

لیکن اگر کسی نےکہا ہے اور ریکارڈ پر ہے تو

مولانا نے نام نہ لیکر اس شخص کاپردہ رکھا

انسان کو نہیں اس کی برائی کوبرا کہا، پھر ان پر اتناغصہ کیوں؟ 

دراصل یہاں اسلامی معاشرت اور اسلامی تعلیمات کوروندکر

نفسانی ہیجان اور فکری انارکی کوفروغ دینےکاسوچاسمجھا منصوبہ ہے

برسوں پرانا بیرونی ایجنڈا ہے

جسے مولانابھانپ گئے اور آڑے ہاتھوں لیکر اس کاراستہ روکنے کےلئے بروقت اٹھ کھڑےہوئے، اس پر منصوبہ ساز اور ان کے کارندے مشتعل ہوئے

اور چور مچائے شور..... کےمطابق

پھر وہ اپنے خلاف اٹھنےوالی ہر آواز کودبانا اور ہر شخص کو بدنام کرنا چاہتے ہیں.


مولانا کےالفاظ مناسب یانامناسب ہونا اتنا اہم نہیں

جتنا اہم ڈیولپ ہوتی اس تباہ کن سوچ پرقدغن لگاناہے

اور اب جب یہ معاملہ ہرجگہ اتنا اچھالاگیاہے تو

ان شاء اللہ اب خان کےفالورز سپورٹرز بھی علانیہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرسکیں گے.

لوط علیہ السلام کو بھی تو بدفعلی کےرسیالوگوں نےکہاتھا

"نکالو ان کو اپنی بستی سے،یہ لوگ بڑے پاکیزہ بنتے ہیں".

جی ہاں بولو مولانا کوبرا بھلا جتناچاہو

مگر یاد رکھو تمہارےناپاک عزائم یہی شخص خاک میں ملاتارہےگا. پھرچاہےتمہیں اچھالگےیابرا.


#عظیمی

Comments

Popular posts from this blog

کم سنی میں حضرت عائشہ -رضی الله عنہا- کا نکاح

خاتون ۔۔۔ لڑکی