دولت کا نشہ (لوک کہانی)
ایک بادشاہ تھا،جس کا ایک نائی تھا،جو ویسے تو عام لوگوں کی طرح تھا مگر حجامت کے دوران ایسے محو گفتگو ہو جاتا تھا کہ خاموش ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔بادشاہ کو بھی اس کی ادھر ادھر کی باتیں سن کر بڑا مزا آتا تھا اور اس کی باتیں سن کر ہنستا جاتا تھا۔نائی کی ایک عجیب عادت بھی تھی جس پر بادشاہ کو غصہ بھی بہت آتا تھا مگر اس کو عادت سے مجبور اور بے وقوف سمجھ کر خاموش ہو جاتا تھا۔
نائی کی عادت یہ تھی کہ بادشاہ کی حجامت کرتے کرتے کوئی نہ کوئی موقع نکال کر بادشاہ کو کہتا کہ :
"بادشاہ سلامت! میرا بیٹا بھی جوان ہو گیا ہے۔ لاکھوں میں ایک ہے۔آپ کی بھی بڑی لڑکی ، اللہ اس کی عمر دراز کرے جوان ہو
گئی ہے اگر مجھ پر نوازش کر دو،شہزادی کا رشتہ میرے بیٹے
سے کردو تو میرے بیٹے کی بھی زندگی سنور جائے گی اور آپ کی بیٹی کی بھی شادی ہو جائے گی۔"
نائی کی یہ بات سن کر ایک طرف بادشاہ کو غصہ آتا تو دوسری طرف ہنسی بھی آتی اور کبھی کبھار جب وہ ہنسی مذاق کے خیال میں ہوتا تو ہنس کر نائی سے کہتا کہ :
"اچھا کچھ مہلت دو تاکہ میں رانی اور شہزادی سے مشورہ کروں۔"
کچھ عرصہ تو یونہی چلتا رہا آخر ایک دن بادشاہ نے اپنے وزیر سے مشورہ کیا اور اس سے پوچھا کہ:
” وزیر ! تم عقل مند ہو اس بات کا پتہ لگاؤ کہ نائی مجھے کافی عرصے سے اتنا تنگ کر رہا ہے تو کون سی ایسی بات ہے جس کے بل بوتے پر مجھ حاکم سے رشتہ مانگتا ہے۔"
وزیر نے بادشاہ کی اس بات پر غور کرنے کی اجازت مانگی۔
دوسرے دن وزیر نے بادشاہ کو بتایا کہ :
" بادشاہ سلامت! یہ تو دولت کا نشہ ہو سکتا ہے کہ نائی بادشاہ سے رشتے کی درخواست کرے مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیسے پتہ چلے کہ اس کے پاس کتنی دولت ہے اور کہاں ہے؟“
آخر وزیر نے بادشاہ سے مشورہ کر کے نائی کے گھر ڈاکہ ڈلوایا ۔ڈاکو نائی کے گھر کا سارا کچھ لے گئے۔وزیر اور بادشاہ نے سمجھا کہ نائی اب اتنی جرات نہیں کرے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔دوسرے دن نائی حجامت کرتے وقت جب ہتھیلی پر بلیڈ صاف کرنے لگا تو ساتھ ہی بادشاہ سے رشتہ بھی مانگنے لگا۔اس وقت بھی بادشاہ نے ہنس کر اس سے کچھ دنوں کی مہلت مانگی اور جان چھڑائی۔
دوسری رات وزیر نے یہ کیا کہ جس فرش پر نائی کھڑے ہو کر حجامت کرتا تھا اس نے اس جگہ کو کھدوایا تو معلوم ہوا کہ فرش کے نیچے خزانے کی دیگیں مٹی میں دبی ہوئی ہیں۔
وزیر سمجھ گیا کہ محل کے اندر زمین میں دبا ہوا یہ خزانہ بادشاہ کے بڑوں کا رکھا ہوا تھا اور جب نائی حجامت کرنے کے
لیے آتا اسی جگہ کھڑا ہوتا تھا تو قدرتی طور پر اس کا دماغ
گھوم جاتا تھا اور جب وہ وہاں سے چلا جاتا تھا تو پھر وہ
ایک عام شخص کی طرح سیدھا سادہ شخص بن جاتا تھا۔
وزیر نے وہ سارا خزانہ وہاں سے نکالا اور اسی وقت اس فرش کو پہلے کی طرح پختہ بنا ڈالا۔ اگلے دن نائی جب بادشاہ کی حجامت کے لیے کھڑا ہوا اور حجامت کرنے لگا تو اس سے کوئی تقاضا نہیں کیا۔آخر بادشاہ نے اس سے کہا:
”تم نے میری بڑی بیٹی کا رشتہ طلب کیا تھا۔اب بھلے تم تیاری کرو۔“
نائی خوف کے مارے کانپنے لگا۔اس کے ہونٹ اور زبان خشک ہو گئے۔ڈرتے ڈرتے کہنے لگا:
”بادشاہ سلامت! آپ کیا کہہ رہے ہیں۔میں آپ کا نوکر، کہاں میں نائی اور کہاں آپ بادشاہ۔میں اس طرح کیسے کہہ سکتا ہوں عالی جاہ! “
یوں دو چار ٹوٹے پھوٹے الفاظ بول کر نائی بے چارہ بے ہوش ہو
کر گر پڑا۔بادشاہ نے اس کے اوپر گلاب اور عطر چھڑکا اور اس
کو ہوش میں لایا۔
اس دن کے بعد نائی نے کبھی بادشاہ سے اپنے بیٹے کی زندگی سنوارنے اور شہزادی کی شادی کی بات نہیں کی۔ایک دن بادشاہ نے وزیر سے پوچھا کہ:
”وہ آخر کون سی بات تھی ؟“
وزیر نے عرض کیا:
”بادشاہ سلامت! یہ سارا دولت کا نشہ تھا۔“
Comments
Post a Comment