جنت حور اور بی بی سی نیوز
*جنت ، حور اور بی بی سی نیوز*
*محمد انس بندیالوی*
بی بی سی ، ڈی ڈبلیو ، وی او اے نیوز اور ان جیسے دیگر نیوز چینلز کافی عرصے سے اسلامی نظریات کو ہدف بنائے بیٹھے ہیں اور زہر افشانی کا کوئی موقعہ جانے نہیں دیتے ، بلکہ اس دشمنی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر تے ہیں،درج ذیل تحریر، بی بی سی نیوز سے جاری کردہ ایک ویڈیو کا جواب ہے ، جس میں جنت اور حوروں کے متعلق اسلامی نظریات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اعتراضات کے جوابات سے پہلے کچھ تمہیدی باتیں ضروری ہیں ، جن سے شبہات کی حیثیت اور جوابات کی فوقیت عیاں ہوگی۔
1۔منطقی مغالطوں کی ایک قسم Red Herring Fallacy کہلاتی ہے ،جس میںایک سنجیدہ اور قابل غور مسئلہ سے توجہ ہٹانے کے لئے درمیان میں کچھ ایسی بات کی جاتی ہے کہ بحث اصل موضوع سے ہٹ کر ایک غیر متعلقہ موضوع کی طرف چلی جائے، مثلاً: موضوعِ بحث "جہاد "کی اہمیت ہو تو کلام کو" غلامی" کے مسئلے کی طرف لے جانا۔
بحث کے دورا ن بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن پر عوامی ذہن فوراً متوجہ ہوجاتا ہے، چنانچہ اصل مسئلہ کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے اس کا بھر پور استعمال ہوتا ہے۔
2۔ منطقی مغالطوں کی ایک اورقسم Straw man argumentہے، اس میں فریق مخالف کا مقدمہ بھی آپ خود بیان کرتے ہیں اور اس کی تردیدبھى خود کرکے خوش ہوتے رہتے ہیں کہ میں نے ہرادیا، مثلاً: مستشرقین کا یوں کہنا کہ " مسلمانوں کو پیدا ہوتے ہی یہ سبق پڑھایا جاتا ہے اطاعتِ حاکم ،جس کا مقصد حکمرانوں کو اپنی من مانی کی اجازت دینا ہے۔"
حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ حاکم کی اطاعت اس وقت تک ضروری ہے جب تک وہ ،اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺکی مخالفت کا حکم نہ دے۔
غرض Straw man argumentکو استعمال کرنے والا شخص فریق مخالف کے مقدمے کو نہیں بلکہ خود اپنے مقدے کوغلط ثابت کررہا ہوتا ہے۔
3۔اعتراض کرنے والےکی عمومی ذہنیت ،بیان کردہ مفاہیم کی فقط مخالفت اور بلا وجہ مخالفت ہوتی ہے،مثلاً:ہم کہتے ہیں کہ "اللہ تعالیٰ نے کائنات کو بہت وسیع تخلیق کیا ہے"، فوراً مخالف کہے گا کہ "جب اس وسیع کائنات میں آبادی فقط دنیا میں ہے،تواتنی وسعت کی کیا ضرورت تھی ؟!
اور اگر اللہ تعالیٰ نے کائنات کو مختصر بنایا ہوتا ،پھر بھی وہ سوال اٹھاتے"جب اللہ تعالیٰ کی ذات قادرِ مطلق ہے تو کائنات کو وسعت کیوں نہیں دی؟!
گویا ہم کہیں "الف" تو وہ کہے گا "ب"، اگر ہم کہیں "ب" تو وہ کہے گا "ج" یوں نہ ماننے کے سو (100)بہانے۔
جو آنا چاہو تو ہزار رستے، نہ آنا چاہو تو عذر لاکھوں
طویل رستہ ، مزاج برہم، برستی بارش،خراب موسم
4۔تین طرح کے افراد سے ہمارا واسطہ ہے،ہر ایک کے لئے جدا طریقۂ استدلال مؤثر ہوتا ہے،
مسلمان ، ایک راسخ العقیدہ مؤمن کے لئے صرف اللہ تعالٰی اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ،بطور دلیل کافی ہے۔
ملحدین، اگر وہ ہٹ دھرم نہیں ہے تواس کے لئے عقلی دلائل کافی ہیں۔
مذبذبین،جو نام کے مسلمان بھی ہیں اور سوچ میں مغربی غلام بھی ہیں ،ایسے حضرات کو سمجھانا دشوار ہے، دو کشتی کا سوار منزل نہیں پاسکتا،چنانچہ اسے کسی ایک جانب لانا ضروری ہے۔
4۔عقیدۂ آخرت ،حشر و نشر،حساب اور جنت و دوزخ ،ان سب نظریات کی اصل عقلاً ثابت ہے، لیکن تفاصیل شرع سے منقول ہے۔
اب ہم آتے ہیں ویڈیو میں کئے گئے سوالات کے جوابات پر۔۔۔۔۔
سوال(1):عورت جب خدا اور خاوند کی فرمانبرداری کے بعد جنت میں داخل ہوگی تو وہاں حور کے ساتھ اسے سخت مقابلے بازی کا سامنا ہوگا،حور کی خوبصورتی کا جو تذکرہ کیا گیا ہے ، اس کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت ہوگی؟
جواب: یہ تمہید نمبر 2 کا طریقہ ہے کہ مدمقابل کے نظریات کی تفاصیل خود بیان کرنا ،پھر خود ہی اس کا رد کرنا،
یہاں دو مغالطے ہیں ، پہلا یہ کہ جنت میں مقابلہ بازی ہوگی،حالانکہ جنت میں نہ تو کوئی ظاہری عیب ہوگا، نہ ہی باطنی ، ارشاد باری تعالی ہے:
وَنَزَعْنَا مَا فِىْ صُدُوْرِهِـمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقَابِلِيْنَ (الحجر:47)
ترجمہ: اور ہم ان کے سینوں میں موجود کینہ کھینچ لیں گے ،وہ آپس میں بھائی بھائی ہوں گے ، وہ آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔
ابوہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اہل جنت کے متعلق) فرمایا :
قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ لاَ اخْتِلَافَ بَیْنَھُمْ وَلَا تَبَاغُضَ [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ : ٣٢٤٦ ]
ترجمہ:” ان (جنتیوں )کے دل ،ایک دل کی طرح ہوں گے، نہ ان میں کوئی اختلاف ہوگا، نہ آپس میں کوئی بغض۔ “
چنانچہ یہ کہنا کہ " حور کے ساتھ اسے سخت مقابلے بازی کا سامنا ہوگا" اس سوچ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
ویڈیو میں موجود محترمہ نے بھی اپنی گفتگو میں اس بات کا اقرار کیا ہے "جنت میں مکمل امن ہوگا ، ماحول اور انسان میں کوئی تصادم نہ ہوگا"
سوال : (2)حوروں کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہاں زمینی عورت کے وجود کا کوئی مقصد ہی نہیں رہ جاتا؟اس عورت نے بڑے خشوع وخضوع سے خدا کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری تھی؟وہ جنت میں محض ایک سائے کی طرح زندگی گزارے گی؟ اس دنیا میں اسکی ماں ہونے کے ناطے کچھ عزت تھی اب حوروں کے سامنے وہ بھی نہ رہی؟
جواب : یہ بھی Straw man argumentہے؛ کیونکہ دنیا کی عورتیں حوروں سے افضل ہوں گی ،جنّت میں حوروں سے افضل مقام ،نیک صالح عورت کو حاصل ہوگا ،مرد کو حوریں ملیں گی، تو نیک مرد کی نیک بیوی ان حوروں کی سردار ہوگی۔
فعن أم سلمة رضي الله عنها أنها سألت النبي صلى الله عليه وسلم قائلة: يا رسول الله! نساء الدنيا أفضل أم الحور العين؟ قال:
" بل نساء الدنيا أفضل من الحور العين كفضل الظهارة على البطانة"
قلت: يا رسول اللهﷺ ! ولم ذلك؟
قال: "بصلاتهن وصيامهن وعبادتهن الله تعالى، ألبس الله وجوههن النور، وأجسادهن الحرير، بيض الألوان، خضر الثياب، صفر الحلي، مجامرهن الدر، وأمشاطهن الذهب۔"
(رواه الطبراني في الأوسط، وذكره العلامة ابن القيم في كتابيه حادي الأرواح إلى بلاد الأفراح، وروضة المحبين.)
حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے میں نے عرض کیا :
" اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ فرمائیے کہ دنیا کی خاتون افضل ہے ۔۔۔یا۔۔۔ جنّت کی حور ؟ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" دنیا کی خاتون کو جنّت کی حور پر وہی فضیلت حاصل ہو گی جو ابرے (باہر والا کپڑا) کو استر (اندر والا کپڑا ) پر حاصل ہوتی ہے ۔"
میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! ایسا کیوں ہے؟ انہوں نے کہا:
" ان کی نمازوں ، روزوں اور خداوند تعالی کی عبادت کی وجہ سے، خدا نے ان کے چہروں کو روشنی سے منورکیا ، اور ان کے جسم ریشمی ، سفید رنگ ، سبزلباس،سونے کے زیورات ، موتیوں کے برتن، اور سونے کی کنگھیاں
ہوں گی۔
علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ،یہ بات جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی گئی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:
أَفْضَلُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ۔
(تذکرۃ القرطبی:۲/۴۷۷)
اب جنت میں موجود دنیاوی عورت کی برتری واضح ہے اور اس برتری کی وجہ بھی بیان کی جا چکی ہے۔
سوال(3): جنت میں کرنے کا کوئی کام نہ ہوگا،سوائے حوروں اور بیویوں کے ساتھ ہمبستری کرنے کے؟حوروں کی تفصیلات اس طرح بیان کی گئی ہیں کہ مردوں کی شہوت ابھر آئے ؟ خصوصاً کنوارے پن کا ذکر بکثرت ہے؟ مردوں کی بھی فقط دو چیزیں ہی کام کر رہی ہوں گی،کھانا اور جنس ،اسکے علاوہ اسے تا ابد اور کوئی کام نہیں کرنا؟
جواب:یہ وہی مغالطہ ہے ،جسے ہم تمہید نمبر 1 میں بیان کر چکے ،کہ متعلقہ موضوع سے توجہ ہٹا کر غیر متعلقہ ۔۔یا ۔۔ضمنی گفتگو کی طرف پھیر دینا۔
اللہ تعالی نے جنت میں مومنین کے لئے بہترین نعمتوں کا وعدہ کیا ہے جس میں اللہ تعالی کا دیدار، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت واکتساب فیض ، مالک الملک کی طرف سے جنتیوں پر سلام ،تلاوت قرآن اور ذکرو اذکار کی اجتماعی محفلیں ، موت، بیماری، خوف اور بڑھاپے سے ہمیشہ ہمیشہ کا چھٹکارا ، باغات، دودھ اور شہد کی نہریں، چشمے ، پھر اللہ کی طرف سے جنتیوں کوشراب طہور پلانا ، ایسی بہترین شراب جس سے سرور تو حاصل ہو لیکن نہ بندہ اپنی عقل کھوئے اور نہ سردرد ہو، ، نہ ختم ہونے والے پھل، پرندوں کا لذیذ گوشت، محلات،گاؤ تکیہ لگا کر دوستوں کی محفلیں، جنت کا بازار، اپنے رشتہ داروں اور چاہنے والوں کا ساتھ ، خدمت کرنے والے غلمان، سلاما ًسلام کی تحیات اور وہ سب کچھ جو بندہ چاہے اور جس کا تصورہم دنیا میں نہیں کرسکتےاور سب سے بڑی چیز اللہ کی طرف سے رضامندی کا پروانہ، وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّهِ أَكْبَرُ (توبہ:72)
ترجمہ : اللہ تعالی کی تھوڑی سی رضا بھی بہت بڑی ہے۔
اور پاکیزہ بیویاں و حوریں بھی شامل ہیں۔
ان سب چیزوں کابیان قرآن پاک میں ہوتے ہوئے بھی، انعامات کی تشریح یہ کرنا کہ " سوائے حوروں اور بیویوں کے ساتھ ہمبستری کرنے کےکوئی کام نہ ہوگا"، اسے کہتے ہیں Red Herring Fallacy
یعنی اس مقام پر ایک وسیع دائرے کو مختصر کرتے ہوئے ،اپنی سوچ کو صرف عورتوں و حوروں سے ہمبستری تک محدود رکھا ہے،اس حدود بندی سے اسلام تو پاک ہے ،البتہ مخالفین کی سوچ کی گندگی عیاں ہے۔
دوسری بات ،یہ کہ جنت کو بنانے کا مقصد ،انعام ہے۔
اگر بالفرض یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ فقط ایک ہی کام ہے،تو انعام میں بھی اگر مشقتیں شامل ہو تو وہ کامل انعام نہ ہوگا۔
تیسری بات ، تمہید نمبر 3کے مطابق ،جنت میں اگر ہمبستری نہ ہوتی تو مخالفین( جو جنسی سوچ اور جنسی درندگی کے سرغنہ ہیں) برجستہ کہتے " ایسی جنت میں جانے کی کیا ضرورت ہے جس میں ہمبستری ہی نہ ہو!!"
سوال (4): حور کی ذات کا کوئی روحانی پہلو نہیں ؟ وہ فقط ایک جنسی کھلونا ہے؟
جواب : یہاں بھی اسلام کی خود ساختہ تشریح اور پھر اس پر طعن ہے،
ملاحظہ کریں کہ حدیث مبارکہ میں کیا ارشاد ہے،
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن أزواج الجنة ليغنين لأزواجهن بأصوات مَاسمعها أحد قط إن مما يغنين: نحن الخيرات الحسان أزواج قوم كرام، ينظرون بقرة أعيان، وإن ممايغننين به: نحن الخالدات لایمتن نحن الآمنات فلايخفن نحن المقيمات فلايظعن۔(معجم طبرانی صغیر:۷۳۴)
ترجمہ:جنت کی عورتیں اپنے اپنے خاوندوں کے سامنے ایسی (خوبصورت) آوازوں میں نغمہ سرائی کریں گی جس کوکسی نے اس سے پہلے نہیں سنا ہوگا ،جوترانے وہ گائیں گی ان میں سے ایک یہ ہے
"ہم بہت اعلیٰ درجہ کی حسین عورتیں ہیں بڑے درجہ کے لوگوں کی بیویاں ہیں وہ آنکھوں کی ٹھنڈک اور لذت سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہمیں دیکھتے ہیں"،
وہ یہ ترانہ بھی گائیں گی "ہم ہمیشہ زندہ رہیں گی کبھی فوت نہ ہوں گی ہم ہمیشہ ہرطرح کی تکلیف سے امن میں ہیں کبھی خوف نہیں کریں گی، ہم دائمی طور پرجنت میں رہنے والیاں ہیں کبھی اس سے نکالی نہ جائیں گی"۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حورعین یہ ترانہ کہیں گی تودنیا کی مؤمن عورتیں اس ترانہ کے ساتھ جواب دیں گی:
نَحْنُ المُصَلِّياتُ وَماصّلَّيْتُنَّ نحنُ الصَّائِماتُ وَمَاصُمْتُنَّ، وَنَحْنُ الْمُتَوَضَّئاتُ وَمَاتَوَضَّأتْنَ، وَنَحْنُ الْمُتَصَدِّقَاتُ وَمَاتَصَدَّقْتنَّ
ترجمہ : ہمیں نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ہے تم نے نمازیں نہیں پڑھیں، ہم نے روزے رکھے ہیں تم نے نہیں رکھے، ہم نے وضو کئے ہیں تم نے وضو نہیں کئے، ہم نے زکوٰۃ وصدقات ادا کئے ہیں تم نے نہیں کئے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس جواب کے ساتھ یہ دنیا کی عورتیں حوروں پرغالب آجائیں گی۔
(تذکرۃ القرطبی:۲/۷۴۶۔ صفۃ الجنۃ ابن کثیر:۱۱۳، بحوالہ قرطبی)
غرض حوروں کا فقط ایک کام نہیں،البتہ مدِّ مقابل کی ذہنیت یہیں تک محدود ہے۔
سوال: ایک اور غیر واضح پہلو یہ ہے کہ کیا جنت میں بچے(اولاد) ہوں گے ۔یا۔ نہیں؟ اور اگر ہوں گے تو کیا وہ ہمیشہ بچے ہی رہیں گے؟
جواب: جب محترمہ خود ہی فرما رہی ہیں کہ یہ پہلو واضح نہیں ہے،تو وضاحت طلب کر نے میں کونسی آفت آرہی تھی ؟!
وضاحت حاضر ہے، اولاً : اہل جنت کو اولاد کی تمنا نہ ہوگی،مگر وہ نفوس جنہیں دنیا میں اولاد کی نعمت نہ ملی ،ان کی تمنا کو پورا کرنے کا سامان ہوگا ، لیکن اصول ِ جنت نہیں توڑے جائیں گے، چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
"المُؤمِنُ إذا اشتَهَى الوَلَدَ في الجنَّةِ، كان حَملُهُ ووضعُهُ وسِنُّهُ في ساعَةٍ كما يَشتَهي"(ترمذی:2563)
ترجمہ: مؤمن جنت میں جب اولاد چاہے گا تو حمل، زچگی، اور(عمرکا جنتیوں کے برابر ہونا) پرورش اسی وقت ہوجائے گی، جیسے وہ چاہے گا۔
سوال: جنت کا ایک اور حیرت انگیز پہلو،وہاں کا ماحول آپ پر مکمل مہربان ہوگا،جو خواہش کریں گے فوراً حاضر ہو جائے گی ، پھر بھی غلمان بطورِ نوکر دستیاب ہوں گے؟یقیناًان کا وہی کام ہوگا جو آپ سمجھ گئے ؟ جب ہی ان کی خوبصورتی کا تذکرہ ہے؟
جواب:یہ بھی تمہید نمبر 2 والا اسلوب ہے۔
خواہ مخواہ "غلمان " کو جنسی کھلونا بنانا اور پھر اس سوچ کو اسلام پر مسلط کرنا،بہت بڑی خیانت ہے،ان کا مقصد اہل ِ جنت کی خدمت ہے۔۔یا ۔۔شان و شوکت کا اظہار ہے، درج ذیل حوالہ جات سے واضح ہے،
وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ [الطور:24]
ترجمہ: اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گِرد پھریں گے گویا وہ موتی ہیں چھپا کر رکھے گئے۔
وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا (الدھر:19)
ترجمہ : اور ان کے پاس سدا رہنے والے خادم گھومتے ہوں گے، جو تو ان کو دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔
يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ [الواقعة:17]
ترجمہ : ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ،آمد و رفت کیا کریں گے۔
ولعل الحكمة في أَن الله فطرهم وخلقهم على تلك الصورة، أَنهم في سنهم هذه يكونون أَخف في الخدمة، وأَسرع في الاستجابة؛ تلبية لمخدوميهم، وإِرضاءً لهم، وهم مع ذلك باقون ودائمون على ما هم عليه من الشباب، والغضاضة، والحسن، لا يهرمون، ولا يتغيرون.
("التفسير الوسيط لمجمع البحوث")
ترجمہ : اللہ تعالیٰ کےغلمان کو اس صورت میں پیدا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اس عمر میں وہ خدمت میں ہلکے اور جواب دینے میں تیز تر ہیں، اپنے مخدومین کی رضا کی خاطر فوراً خدمت کے لئے کوشاں رہتے ہیں ، اور ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ وہ جوانی ، خوبصورتی اور بھلائی پر مستقل طور پر قائم رہتے ہیں ،وہ عمر رسیدہ نہیں ہوتے اور نہ ہی تبدیل ہوتے ہیں۔
حرفِ آخر:اسلام ایک مضبوط بنیاد رکھتا ہے؛ لھٰذا اس قسم کے اعتراضات کوئی حیثیت نہیں رکھتے،البتہ اتنا ضرور ہے کہ "کیس(CASE) مضبوط ہے ،وکیل کمزور ہے"
Comments
Post a Comment